تذکرہ — Page 98
جب اِس عاجز نے دیکھا تو وہ اِسی عاجز کی تصویر تھی اور سبز پوشاک تھی مگر نہایت رُعب ناک جیسے سپہ سالار مسلّح فتح یاب ہوتے ہیں اور تصویر کے یمین و یسار میں حجۃ اللہ القادر و سُلطانِ احمد ِ مختار لکھا تھا اور یہ سوموار کا روز اُنیسویں۱۹ ذوالحجہ ۱۳۰۰ھ مطابق ۲۲؍اکتوبر۸۳ء اور ششم کا تک بکرم ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ ۶۱۵ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳) ۲۴؍اکتوبر۱۸۸۳ء سے قبل ’’ایک مرتبہ اس عاجز کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ اگر تمام لوگ منہ پھیر لیں تو مَیں زمین کے نیچے سے یا آسمان کے اُوپر سے مدد کرسکتا ہوں۔‘‘ (از مکتوب بنام میر عباس علی صاحب۔مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ۵۷۹ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۲۹؍ اکتوبر۱۸۸۳ء سے قبل ’’ بارہا اس عاجز کو حضرتِ احدیّت کے مخاطبات میں ایسے کلمات فرمائے گئے ہیں۔جن کا ماحصل یہ تھا کہ سب دنیا پنجۂ قدرت احدیّت میں مقہور اور مغلوب ہے اور تصرّفاتِ الٰہیہ زمین وآسمان میں کام کررہے ہیں۔‘‘ (از مکتوب بنام میر عباس علی صاحب۔مکتوبات احمد جلد اوّل صفحہ۵۸۰ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۲۹؍ اکتوبر۱۸۸۳ء سے قبل ’’ چند روز کا ذکر ہے کہ یہ الہام ہوا۔اِنْ یَّـمْسَسْکَ بِضُـرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗ اِلَّاھُوَ۔وَ اِنْ یُّرِدْکَ بِـخَیْرٍ فَلَا رَآ۔دَّ لِفَضْلِہٖ۔اَ لَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیءٍ قَدِیْرٌ۔اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ لَاٰتٍ۔‘‘؎۱ (از مکتوب بنام میر عباس علی صاحب۔مکتوبات احمد جلد اوّلصفحہ۵۸۰ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۹،۲۰ ؍نومبر ۱۸۸۳ء ’’رات کو ایک اور عجیب الہام ہوا اور وہ یہ ہے۔۱ (ترجمہ از مرتّب) اگر وہ (خداوند کریم) تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی بھی اُسے دُور نہیں کرسکتا اور اگر وہ تمہیں کوئی خیر پہنچانا چاہے تو کوئی اس کے فضل کو رد بھی نہیں کرسکتا۔کیا تم جانتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر بات پر کامل قدرت رکھتا ہے اللہ کا وعدہ ضرور پورا ہوگا۔(نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) مکتوبات احمد میں مکتوب ۲۹؍اکتوبر۱۸۸۳ء میں صفحہ۵۸۰ مطبوعہ ۲۰۰۸ء پر لفظ اِنْ یَّـمْسَسْکَ کی بجائے اِنْ تَـمْسَسْکَ لکھا ہے جو سہو کاتب معلوم ہوتا ہے۔