تذکرۃ المہدی — Page 53
تذكرة المهدى 53 ہوئے دیکھا اور میں نے گاڑی سے اتر کر آپ سے مصافحہ کیا اور آپ نے مصافحہ کر کے فرمایا جلد گاڑی میں سوار ہو جاؤ تو کیا آپ وہاں تشریف لے گئے تھے فرمایا یہ ایک قسم کا کشف ہوتا ہے اور بعض وقت کسی پر کشفی حالت طاری ہو جاتی ہے۔اور اس کو مطلق خبر بھی نہیں ہوتی ہے پھر فرمایا کہ یہاں قادیان میں ایک شخص تھا اس نے ہم سے بیان کیا کہ آج میں قبرستان چلا گیا تو میں نے بعض آدمیوں کو دیکھا کہ اپنی اپنی قبر پر بیٹھے ہیں۔انسان تو قبر میں نہیں رہتا لیکن روح کی ایک ایسی مجمول النہ کیفیت ہے کہ اس کو بجز صاحب کشف تجربہ کار کے دوسرا نہین سمجھ سکتا ہے۔آریوں عیسائیوں اور دیگر مذہب والوں نے روح کے بارہ میں بڑی ٹھو کر کھائی ہے اور بہت سے لوگ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ایک بزرگ کو فلاں مقام پر دیکھا۔اور دوسرا کہتا ہے کہ میں نے فلاں مقام پر دیکھا اور یہ روئیت بزرگ بمقام مختلفہ ایک دقت واحد میں ہی ہوئی ہے سو یہ سب دیکھنے والے کی کشفی حالت ہے اور وہ بزرگ سب پر وقت واحد میں ہی ظاہر ہو جاتا ہے آنحضرت ﷺ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں دیکھا اور پھر چھٹے آسمان پر بھی دیکھا پھر میں نے عرض کیا کہ حضرت وفات یافتہ انسان کی روح خواب میں زندہ کے پاس آتی ہے یعنی ہم جو خواب میں متوفی کو دیکھتے ہیں کہ وہ ہمارے پاس آیا اور باتیں بھی ہو ئیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ نہیں روح نہیں آتی بلکہ اس زندہ خواب میں کی روح متوفی کی طرف جاتی ہے اور اس کی مثال اس طرح سمجھو کہ کوئی شخص کشتی میں بیٹھا ہو اور پر لے کنارہ پر آدمی کھڑے ہوئے ہوں تو کشتی کے بیٹھنے والوں کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو کنارے پر کھڑے ہیں ہماری طرف آرہے ہیں حالانکہ وہ ایک مقام پر کھڑے ہوئے ہیں اور ان کو کچھ بھی حرکت نہیں ہے ریل میں بیٹھنے والوں کو بھی یہ منظر پیش نظر ہوتا ہے پھر میاں قطب الدین نے عرض کیا کہ کیا حضور کو جب تکلیف ہوتی ہے تو الہام ہوتا ہے حضرت اقدس علیہ السلام مسکرائے اور کچھ جواب لا