تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 52 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 52

تذكرة المهدي 52 جایا کرتا تھا کہ حضرت اقدس مبط انوار رحمانی اور مصدر فیوض ربانی علیہ السلام پر آج کل میں وحی کا نزول ہونے والا ہے اور وحی و الہام کے نزول سے کئی روز پہلے بہار ہو جاتے تھے اور جس وقت وحی ہو چکتی تو فی الفور توانا و تندرست ہو جاتے تھے۔یہ تکلیف دراصل ہماری نظر میں تکلیف تھی اور یہ ضعف ہماری سمجھ میں ضعف تھا مگر در حقیقت نہ وہ کوئی تکلیف تھی اور نہ ضعف تھا بلکہ وہ ہزار راحت اور لاکھوں تو انائی سے بہتر تھا الہی عظمت و جبروت کے سامنے خدائی بیبت وسطوت کے روبرو بشریت کیا چیز ہے اور کیا حقیقت رکھتی ہے جب انسان سورج کی تپش اور آتش کی سوزش کی تاب نہیں لاسکتا تو تجلی الہی کی کب تاب ہو سکتی ہے اس حقیقت کو وہی محسوس کرتے ہیں جنہوں نے اس نور سے حقیقی روشنی حاصل کی ہے۔اور جنہوں نے اس جمال الہی سے اپنی آنکھوں کو منور کیا؟ حضرت اقدس نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ ایسے وقت میں ہمارے تمام قومی اور تمام حس ذہن قوت حافظہ باصرہ شامہ سب تیز ہو جاتے ہیں اور وہ حالت اس حالت کے مشابہ ہوتی ہے کہ جیسے کوئی اندھیرے مکان میں ہو اور کچھ بھی نظر نہ آتا ہو اور یکدم اس مکان میں روشنی ہو جائے تو اس کی نظر ہی نہیں۔بلکہ ہر ایک قوت بڑھ جاتی ہے۔ایک کشفی حالت کا بیان ایک روز کا ذکر ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کو دوران سر ہوامیان قطب الدین مرحوم ساکن کو ٹلہ فقیر کو بلوایا اور میں پاس بیٹھا ہوا تھا سرد بار ہا تھا فرمایا تیل لگا کر ہماری پنڈلیوں کی مالش کرو۔سر میں درد بہت ہے سو ہم دونوں آپ کی پنڈلیوں کی مالش کرنے لگے۔اس عرصہ میں شیخ نور احمد صاحب ضلع جالندھر کے رہنے والے آگئے ان کو خواب بہت آیا کرتے ہیں اکثر بچے ہوتے ہیں اور وہ بھی آپ کی پنڈلیوں کی مالش میں شامل ہو گئے میاں قطب الدین صاحب نے عرض کیا کہ حضور میں ریل میں جہلم سے آ رہا تھا ایک سٹیشن ریلوے پر میں نے حضور کو ٹہلتے