تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 302 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 302

تذكرة المهدى 302 العالمین کا فرمانبردار ہو اس کو کسی کی ملازمت کی کیا پرواہ ہے ویسے میں آپ کے حکم سے بھی باہر نہیں مرزا غلام مرتضی صاحب یہ جواب سن کر خاموش ہو جاتے اور فرماتے اچھا بیٹا جاؤ اپنا خلوت خانہ سنبھالو۔جب یہ چلے جاتے تو ہم سے کہتے کہ یہ میرا بیٹا ملا ہی رہے گا۔میں اس کے واسطے کوئی مسجد ہی تلاش کر دوں جو دس میں من دانے ہی کمالیتا مگر میں کیا کروں یہ تو ملا گری کے بھی کام کا نہیں ہمارے بعد یہ کس طرح زندگی بسر کرے گا۔ہے تو یہ نیک صالح مگر اب زمانہ ایسوں کا نہیں چالاک آدمیوں کا ہے۔پھر آب دیدہ ہو کر کہتے کہ جو حال پاکیزہ غلام احمد کا ہے وہ ہمارا کہاں ہے یہ شخص زمینی نہیں آسمانی ، یہ آدمی نہیں فرشتہ ہے یہ بات کہہ کے وہ بڑھا ہندو بھی چشم پر آب ہو کر کہنے لگا کہ اب مرزا غلام مرتضیٰ زندہ ہوتا اور اس کا یہ عروج اور ترقی کا دیکھتا کہ دنیا کے عقلمند اور مولوی ملا اس کے در کے محتاج ہیں اور خدا نے وہ مرتبہ اس کو دیا اور اپنا وہ جلوہ قدرت دکھایا کہ سب کی عقل اور علم اس کے آگے پیچ ہیں۔خاکسار کہتا ہے کہ میں نے اپنی طرف سے نہ گھٹایا نہ بڑھایا صرف اس کی زبان پنجابی کا ترجمہ کیا ہے۔مفہوم بعینہ وہی ہے جو اس نے بیان کیا۔بعض آدمیوں کی زبانی میں نے یہ بھی سنا ہے کہ مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے خاندان میں یہ روایت مشہور چلی آتی ہے کہ کوئی عالی شان انسان ہمارے خاندان میں پیدا ہو گا شاید وہ یہی ہو یعنی مرزا غلام احمد (علیہ السلام)۔میں دارالامان سے بٹالہ کسی کام کو گیا اور حضرت اقدس علیہ السلام سے اجازت طلب کی فرمایا جاؤ اور بیس روپیہ دوئے کہ اس کا سودا لیتے آنا۔میں نے تمام سودا خریدا شاید دو روپیہ بچ گئے واپس قادیان کو آتے ہوئے یکہ میں ایک ہندو بھی سوار ہو لیا وہ بھی قادیان کو آتا تھا لیکن اس کو کسی دوسرے گاؤں آگے جانا تھا۔میں نے اس سے پوچھا کہ تم حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو جانتے ہو