تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 303 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 303

تذكرة المهدي 303 اس نے کہا میں خوب جانتا ہوں اور تم سے زیادہ واقف ہوں میں نے کہا کہ کوئی ایسی بات آپ کو معلوم ہو کہ جس سے اچھا برا جو کچھ بھی حال ہو معلوم ہو جائے اس نے کہا کہ میں نے بچپن سے مرزا غلام احمد کو دیکھا ہے (علیہ السلام) میں اور وہ ہم عمر ہیں اور قادیان میرا آنا جانا ہمیشہ رہتا ہے اور اب بھی دیکھتا ہوں جیسی عمدہ عادات اب ہیں ایسی نیک خصلتیں اور عادات پہلے تھیں اب بھی وہی ہیں۔سچا۔امانت دار - نیک - میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ پر میشور مرزا صاحب کی شکل اختیار کر کے زمین پر اتر آیا ہے اور پر میشور اپنے جلوے آپ دکھا رہا ہے اگر ایسے ہی لوگوں میں پر میشور او تار نہ لے تو پھر کس میں اپنا روپ دھار کر اپنے آپ کو ظاہر نہ کرنے۔یہ الفاظ اس کی زبان کے ہیں میں نے نوٹ کر لئے تھے۔میں جب قادیان آیا اور آپ کو دہ سودا دے کر جو آپ نے منگایا تھا دو روپیہ بھی دیدئے فرمایا یہ کیسے میں نے عرض کیا کہ سودا میں سے بچ گئے ہنس کر فرمایا تم نے صاحبزادہ صاحب کیوں نہ خرچ کرلئے۔میں نے عرض کیا کہ میرے پاس خرچ تھا۔پھر میں نے حساب دینا چاہا فرمایا حساب دوستان در دل ہم دوستوں سے حساب نہیں لیا کرتے اور نہ یہ ہمارا کام ہے۔میں نے پھر اس ہندو کا واقعہ سنایا فرمایا۔ہاں ہم خوب اس سے واقف ہیں۔جب خاکسار پہلے پہل حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کو مجدد ہونے کا دعویٰ تھا میں آپ کو مجدد لکھتا اور غوث و قطب بھی جب آپ کی زبان مبارک سے محدث کا لفظ سنا تو مجدد اور محدث لکھنے لگا اور جب مسیح موعود کا دعویٰ آپ نے کیا تو وہ دونوں لفظ چھوڑ کر مسیح موعود اور نبی اللہ یا رسول اللہ لکھنے لگا خواہ میں جے پور دہلی ہانسی حصار الور - شملہ - لدھیانہ وغیرہ میں ہوا یا قادیان میں یا کہیں اور یا اپنے وطن میں غرض کہیں ہوتا۔اندر کا القاب ہمیشہ میرا یہ ہوتا تھا الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا نَبِ الله اور یا اس طرح الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللہ اور لفافہ پر اس طرح لکھتا بشرف -