تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 301 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 301

تذكرة المهدي 301 کی پیدائش کے زمانہ سے پہلے کا ہوں اور میں نے ان کو گود میں کھلایا ہے۔جب ے اس نے ہوش سنبھالا ہے بڑا ہی نیک رہا دنیا کے کسی کام میں نہیں لگا بچوں کی طرح کھیل کود میں مشغول نہیں ہوا شرارت فساد جھوٹ گالی کبھی اس میں نہیں ہم اور ہمارے ہم عمر اس کو ست اور سادہ لوح اور بے عقل سمجھا کرتے تھے کہ یہ کس طرح گھر بسائے گا سوائے الگ مکان میں رہنے کے اور کچھ کام ہی نہیں تھا نہ کسی کو مارا نہ آپ مار کھائی۔نہ کسی کو برا کہانہ آپ کو کہلوایا ایک عجیب پاک زندگی تھی مگر ہماری نظروں میں اچھی نہیں تھی۔نہ کہیں آنا نہ جانا نہ کسی سے سوائے معمولی بات کے بات کرنا اگر ہم نے کبھی کوئی بات کہی کہ میاں دنیا میں کیا ہو رہا ہے تم بھی ایسے رہو اور کچھ نہیں تو کھیل تماشہ کے طور پر ہی باہر آیا کرو تو کچھ نہ کہتے ہنس کے چپ ہو رہتے تم عقل پکڑو کھاؤ کماؤ کچھ تو کیا کرو یہ سن کر خاموش ہو رہتے آپ کے والد مجھے کہتے نمبردار جا غلام احمد کو بلا لاؤ اسے کچھ سمجھا دیں گے میں جاتا بلا لا تا والد کا حکم سن کر اسی وقت آجاتے اور چپ چاپ بیٹھ جاتے اور نیچی نگاہ رکھتے۔آپ کے والد فرماتے بیٹا غلام احمد ہمیں تمہارا بڑا فکر اور اندیشہ رہتا ہے تم کیا کر کے کھاؤ اس طرح سے زندگی کب تک گزارو گے تم روزگار کرد کب تک دلہن بنے رہو گے خوردنوش کا فکر چاہئے دیکھو دنیا کماتی کھاتی پیتی ہے کام کاج کرتی ہے۔تمہارا بیاہ ہو گا بیوی آوے بالک بچے ہوں گے وہ کھانے پینے پہننے کے لئے طلب کریں گے ان کا تعمد تمہارے ذمہ ہو گا۔اس حالت میں تو تمہارا بیاہ کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے کچھ ہوش کرو اس غفلت اور اس سادگی کو چھوڑ دو۔میں کب تک بیٹھا رہوں گا بڑے بڑے انگریزوں افسروں حاکموں سے میری ملاقات ہے وہ ہمار الحاظ کرتے ہیں میں تم کو چٹھی لکھ دیتا ہوں تم تیار ہو جاؤیا کہو تو میں خود جاکر سفارش کروں تو مرزا غلام احمد کچھ جواب نہ دیتے وہ بار بار اسی طرح کہتے آخر جواب دیتے تو یہ دیتے کہ ابا بھلا بتلاؤ تو سہی کہ افسروں کے افسر اور مالک الملک احکم الحاکمین کا ملازم ہو اور اپنے رب