تذکرۃ المہدی — Page 270
تذكرة المهدي 270 میرٹھ اور میرٹھ سے دہلی اور دہلی سے جیند ہو کر پھر بھٹنڈہ لاہور کو ہوتا ہوا دار الامان پہنچ جاؤں گا ادھر میری بیوی چونکہ کمزور تھی اور پھر لڑکے کا غم اور اس پر صبر و استقلال کچھ جنون کے آثار نمودار ہوئے میں نے سمجھا کہ سفر میں طبیعت بہل جائے گی اور درست ہو جائے گی پس میں میرٹھ آیا اور جناب بر اور مکرم شیخ عبدالرشید صاحب زمیندار احمدی کے مکان پر فروکش ہوا۔انہوں نے بہت کچھ خاطر تواضع کی۔اور انکی عورتوں نے عورتوں کی خاطر کری پھر چار روز ٹھہر کر میں دہلی آیا۔اور دہلی میں ایک رات ٹھر کر جیند کو چل دیا۔جیند میں دو تین روز ٹھرنے کا ارادہ کیا تھا مگر وہاں ایک مہینہ لگ گیا یہاں کے اکثر لوگ ہمارے خاندان کے خاص کر مجھ سے مرید ہیں وہ مجھ سے تو ہمیشہ ملتے رہتے ہیں لیکن حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام سے منکر ہیں سامنے کچھ نہیں بول سکتے۔پیچھے سب کچھ جو ان کے جی میں آتا ہے کہہ لیتے ہیں۔یہاں ایک مولوی محمد یوسف آہنگر ہے وہ مجھ سے ہمیشہ سے عداوت رکھتا ہے اور اب بھی عداوت رکھتا ہے جب سامنے آتا ہے تو کچھ نہیں بولتا۔لیکن ہمیشہ کفر کا فتویٰ ہی دیتا رہتا ہے اور کہیں دہلی سے اور کہیں لاہور سے خواہ مخواہ جھوٹ بول کر اور الزام لگا کر کفر کا فتویٰ منگا تا رہتا ہے۔بخشی فوج ریاست جیند شیخ عباس علی صاحب مجھ سے مرید ہوئے تو وہ دب گیا۔اس کی چلتی کچھ نہیں مگر دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہے اور جلا بھنا کرتا ہے میں نے بہت کچھ سمجھایا اور نصیحت کی کہ بندہ خدا میں کبھی سال میں دو سال میں یا چار پانچ سال میں آتا ہوں۔اور تو یہاں ہمیشہ رہتا ہے تو مجھ سے کیوں خفا رہتا ہے کیا مسلمان وہی ہوتا ہے جو دل میں حسد کپٹ کینہ رکھے میں تیری دعوتوں میں یا کسی کام میں حارج نہیں ہوں بلکہ اپنے مریدوں کو بھی کہتا ہوں کہ مولونی صاحب کی دعوت کرد مگر اس کی جبلی عادت کہاں جائے۔باقی دوسرے حصہ میں انشاء اللہ 1