تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 269 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 269

تذكرة المهدى 269 ہے کہ آپ کو کشفی رنگ میں معلوم ہو گیا یا اللہ تعالیٰ جل شانہ نے آپ کو بتلا دیا ہو گا۔بات دراصل یہ ہوئی کہ میں جو سر سادہ آیا تھا تو چند روز کے بعد ہمارے والد ماجد حضرت شاہ حبیب الرحمٰن صاحب کے عرس آگئے اور یہ عرس میرے بڑے بھائی شاہ خلیل الرحمن صاحب کیا کرتے ہیں اس عرس میں علاوہ اور باتوں کے ایک یہ بھی ہوتی ہے کہ مریدین حاضرین عرس اپنے امور حل مشکلات کے لئے ایک نذر مانا کرتے ہیں اور وہ نذر یہ ہوتی ہے کہ جو ہمارا یہ کام ہو گیا تو ہم اب کے غلاف چڑھا ئیں گے۔پس اس سال کئی آدمیوں نے غلاف چڑھائے اور غلاف کے لئے الگ غزلیں مقرر ہوتی ہیں وہ ہمارے برادر کے مکان سے غلاف اٹھتا ہے اور اس وقت بڑی دھوم ہوتی ہے اور باری باری سب لوگ اس کو ایک طشت میں رکھ کر خانقاہ پر لے جاتے ہیں اور راستہ میں قوالی ہوتی جاتی ہے اور صوفیوں کو حال ہوتا ہے اسی طرح سے خانقاہ تک جو دو فرلانگ کا میدان ہے لے جا کر قبر پر غلاف چڑھاتے ہیں اور شیرینی اور روپیہ بھی ہوتے ہیں میں تو اس روز بیمار تھا اور میری بیوی ہمارے بھائی کے رعب میں آکر خاموش ہو گئی۔ہمارے بھائی نے میرے لڑکے فرقان الرحمن کے سر پر وہ غلاف رکھا اور پھر لے گئے یہ بات تھی جس کو حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنے خط مبارک میں یاد دلایا ہے۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ بہت ریجھ تھی اور اس بات کی بہت خواہش رکھتے تھے کہ لوگ تمام بدعات و خرافات اور منہیات سے پر ہیز کریں گو کسی سے زبان سے نہ کہتے لیکن دعا ئیں بہت کیا کرتے تھے اور ہر ایک کے حال کو دیکھتے رہتے تھے۔حضرت اقدس کی دعاؤں کی برکت سے مقدمہ تو فتح ہو گیا اور لڑکا میرا فوت ہو گیا پھر میں سرسادہ سے قادیان کو چل دیا۔اور اس طرح سے چلا کہ سر سادہ سے