تذکرۃ المہدی — Page 250
تذكرة المهدى 250 به اون مرجاویں گے ہماری بات بن جاوے گی ہمارا دعوئی سر سبز ہو جاوے گا ہم ہر گز اس بات کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور نہ مولوی نذیر حسین صاحب یہ بات مان سکتے ہیں جہاں لوگ جھوٹے ہوتے ہیں وہاں بچے بھی تھوڑے بہت اور حق پسند نکل ہی آتے ہیں انہوں نے زور دیا کہ بے شک مولوی نذیر حسین صاحب تم کھاویں سچ اور جھوٹ میں واقعی تمیز ہو جاوے گی۔صدق و کذب میں یہ معیار بہت ہی عمدہ ہے اب اس بات کو کون روک سکے اب تو یہ بات لوگوں میں پھیل گئی اور لوگوں کو اس دن کا خیال ہو گیا لیکن جو اس بات کے مخالف تھے انہوں نے یہ التزام کیا کہ " مرزا کو مسجد میں ہی مار ڈالو - بلوہ عام میں کون پوچھتا ہے۔" جب وہ دن اور وہ وقت موعود آیا تو لوگ جوق در جوق جامع مسجد میں آنے لگے۔یہاں تک کہ جامع مسجد لوگوں سے بھر گئی اور مخلوق کا ایک تار لگ گیا۔اس روز صبح سے لوگ حضرت اقدس علیہ السلام کے پاس یہ پیغام وقتا فوقتا لانے لگے کہ حضرت آپ جامع مسجد میں ہرگز نہ جاویں فساد ہو جاوے گا تکرار ہو گا خدانخواستہ آپ کو تکلیف پہنچے یا جان جائے کیا فائدہ وہاں جانے سے یہ لوگ پلول ملا کے آئے ہیں کہ مرزا جامع مسجد میں نہ جاوے تو بہت ہی اچھا ہو ے حافظ محمد اکبر ایک شخص واعظ اس زمانہ میں خوش الحان تھا وہ بھی آیا اور کہنے لگا کہ حضرت آپ جانے کو جائیں مگر میں سچ کہتا ہوں کہ لوگ دیلی کے آپ کے قتل کے درپے ہیں کسی کے ہاتھ میں چھریاں چاقو اور کسی کے ہاتھ اور دامن اور جیب میں نوکدار پتھر ہیں پتھر ایکدم برسیں گے اور پھر چھریاں چلیں گی۔یہ بات حافظ محمد اکبر نے بچی اور نیک نیتی سے کسی تھی مگر حضرت اقدس علیہ السلام بار بار فرماتے تھے کہ کوئی پرواہ نہیں اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے والله يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ اللہ تعالی کی حفاظت کافی ہے اللہ حافظنا و ناصر نا اب جانے سے رک نہیں سکتے کیونکہ ہم نے جو غیر حاضر پر لعنت لکھی ہے اس لعنت کے مورد ہم نہیں ہو سکتے۔-