تذکرۃ المہدی — Page 251
تذكرة المهدي 251 پس ظہر عصر کی نماز ظہر کے وقت جمع جامع مسجد دہلی اور ہجوم یہود کی تھی اور دو یا تین تجھیاں کرایہ کی منگائی گئیں ایک بگھی میں حضرت اقدس علیہ السلام اور سید امیر علی شاہ صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب اور ایک صاحب اور ایک بگھی میں میں اور غلام فصیح اور محمد خان صاحب کپور تھلوی اور ایک شخص اور تیسری میں حکیم فضل الدین صاحب اور کئی صاحب اور بیٹھ گئے اس وقت ہم بارہ شخص تھے جب ہم جامع مسجد کے دروازہ پر جنوب کی جانب پہنچے تو دیکھا کہ مسجد اور مسجد کی سیڑھیاں ڈٹاؤٹ لوگوں سے بھری ہوئی ہیں اور جیسا کہ اکثر اشخاص نے اور نیز حافظ محمد اکبر واعظ مرحوم نے بیان کیا تھا وہ مشاہدہ میں آگیا حضرت اقدس علیہ السلام آگے بلا خوف و خطر اور داہنی جانب میں اور مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم مغفور دونوں ہاتھ میں ہاتھ لئے اوپر چڑھے اور کوئی راہنے اور کوئی بائیں اور کوئی پیچھے بھلا ہم بارہ آدمیوں کی اتنے لوگوں میں کیا حقیقت تھی اور ایک مزدور کتابیں لئے ہمارے ساتھ جو حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام لائے تھے لوگوں کے تیور بدلے ہوئے آنکھیں سرخ و زرد جوشیلی چہروں پر خون گویا چھڑکا ہوا ہم سب جامع مسجد (مناره شرقی دمشق) پر بیچ کی محراب میں جابیٹھے حضرت اقدس علیہ السلام کی جیسی عادت خلوت میں جلوت میں ہمیشہ تھی جیسے کوئی نئی دلہن بیٹھی ہوتی ہے آنکھوں میں شرم جیسے کنواری نوجوان کی آنکھ میں حیا ہوتی ہے نہ آپ کسی طرف دیکھتے ہیں نہ کسی طرف متوجہ ہوتے نظر بر پشت پا دوخته اور پاس مولوی عبد الکریم صاحب بیٹھے اور آگے کتابوں کا ڈھیر لگا ہوا اور سامنے کی جانب یہ خاکسار اتنے عرصہ میں قریباً ایک سو سے زیادہ پولیس کے نوجوان اور ساتھ یورپین آفیسر یکا یک آگئے اور ہمارا محاصرہ کر لیا۔اور ہم کو اپنے حلقہ میں لے لیا میرے پاس اس وقت لباس فاخرہ چونه رنگین اور عمامہ رنگین شرقی تھا اور غرارہ کا پاجامہ - میرا قد چونکہ لمبا تھا اور لباس فاخرہ تھا راستہ میں بھی اور جامع