تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 20 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 20

تذكرة المهدي 20 " عش کر گئے۔اور ان پر ایک عالم استغراق پیدا ہو گیا تھا۔اور واہ واہ اور سبحان اللہ کے نعروں کا شور ہو گیا۔اور حضرت اقدس علیہ السلام بھی ان سے بہت محبت شفقت سے ملتے تھے انہوں نے یہ سوال کیا تھا کہ آپ کا دعوئی امتی ہونے کا بھی ہے اور نبی ہونے کا بھی اور آنحضرت ا خاتم النبین ہیں میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی ذرا سمجھا دیں حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا یہ تو نهایت آسان ہے لوگوں نے بے سمجھی سے اس کو مشکل بنا لیا پھر وہ تقریر کی جو الوصیت میں طبع ہو چکی ہے اور اس کے سوا بہت سی باتیں ہوئیں۔سہارنپور میں مباحثہ پس میں اس وعدہ کے مطابق سہارنپور گیا یہ صاحب نهایت بشاشت اور تواضع سے ملے ایک مولوی صاحب بھی سہارنپور کے آگئے۔وہ تو مخالفت سلسلہ میں پر جوش تھے اگر چہ ان صاحب نے جنکا ذکر خیر ہو رہا ہے حضرت اقدس علیہ السلام کی بہت ہی تعریف کی۔لیکن ان کی پیشانی کا بل نہ اترا۔مجھے فرمانے لگے کہ مرزا صاحب کے مسیح موعود یا مہدی ہونے کا ثبوت کیا ہے؟ میں نے کہا کہ مولوی صاحب قاعدہ مناظرہ کا یہ ہے کہ بعض سوال جواب کا قائم مقام سمجھا جاتا ہے مولوی صاحب نے کہا ہاں پس میں نے کہا کہ اسی بنا پر آپ سے سوال ہے کہ آنحضرت محمد مصطفیٰ کی نبوت ورسالت کا آپ کے پاس کیا ثبوت ہے فرمانے لگے کہ قرآن شریف نازل ہوا قرآن شریف نے بتلایا ہے کہ آپ نبی و رسول ہیں۔میں نے کہا مولوی صاحب آپ کو دلیل اور دعوئی میں فرق نہیں معلوم ہوتا کہ دعوی کیا ہوتا ہے اور دلیل اور ثبوت کیا ہوتا ہے آپ دعوئی کو بھی دلیل ہی جانتے ہینی میں نے دلیل پوچھی تھی اور ثبوت دریافت کیا تھا آپ نے اس کو چھوڑ کر ایک اور دعوئی پیش کر دیا جو محتاج ثبوت ہے اب آپ کو دو مشکل پیش آئیں گی۔ایک آنحضرت ﷺ کی نبوت کی دلیل۔اور دوسری قرآن شریف منجانب الله اور کلام الہی ہونے کا کیا ثبوت ہے۔اور کس دلیل سے آپ اس کو کلام الہی