تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 19 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 19

تذكرة المري 19 بھی میرا اس وقت کا تعارف اور ملاقات تھی کہ جب میں بھی پڑھتا تھا اور یہ بھی پڑھتے تھے مولوی صاحب کے ہاتھ میں درد تھا یہ زیادہ بول نہیں سکتے تھے۔اسی واسطے دوسرے صاحب حضرت اقدس کی خدمت میں بار بار حاضر ہوتے تھے اور حضرت اقدس علیہ السلام کے ساتھ حسن عقیدت رکھتے تھے۔مگر مسیح موعود حضرت اقدس کو نہیں مانتے تھے اور نہ اب تک مانتے ہیں اور جب دہلی میں مولوی محمد بشیر متوفی سے مباحثہ تھا تب بھی برابر اس مخالفت میں حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔ایک دفعہ جناب مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوئی رضی اللہ عنہ نے دہلی میں مباحثہ سے ایک روز پیشتر قصیده نعتیہ مندرجہ براہین احمدیہ پارسی لب و لہجہ میں سنایا تھا اس وقت سے ان کی حالت ذوق و شوق زیادہ بڑھ گئی اور پھر دوسری بار دوسرے روز حضرت مولوی صاحب رضی الله : درخواست کی کہ ایک دفعہ اور وہی قصیده ای طرز میں سنائیں مولوی صاحب نے پھر سنایا مولوی صاحب کا پڑھنا عجیب و غریب پڑھنا ہو تا تھا فارسی پڑھتے تو بالکل فارسیوں کے لب ولہجہ میں کہ گویا کوئی ایرانی یا شیخ سعدی و نظامی وغیرہ بول رہے ہیں۔اور جو اردو پڑھتے تو اسی لب ولہجہ میں اور جو عربی پڑہتے تو بالکل عرب معلوم ہوتے تھے اور جو پنجابی نظم و نثر پڑہتے تو ہو بہو پنجابی ادا میں اور جو انگریزی پڑھتے تو عین انگریزی طرز میں پڑھتے تھے کہ گویا ایک یورپین انگریز بول رہا ہے اور جو قرآن شریف پڑھتے تو بالکل عرب معلوم ہوتے تھے اور جو وعظ یا خطبہ پڑھتے تو اس میں کمال تھا کہ سننے والے ذوق و شوق میں محو و مستغرق ہو جاتے تھے اور آپ کی تحریر تو بے نظیر تھی۔وہ تو موجود ہی ہے اس کا بیان کیا ہو سکتا ہے۔پڑھنے والوں پر خود ظاہر ہے دہلی کے مباحثہ کی بھی عجیب و غریب کیفیت ہے اس مضمون کو ختم کر کے لکھوں گا انشاء اللہ تعالٰی۔جناب مفتی محمد صادق صاحب نے ایک عجیب و غریب تقریر دار الامان میں کی تھی جس کو سن کر مولوی راسخ بھی اور یہ صاحب بھی جن کا ذکر ہو رہا ہے عش