تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 91 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 91

تذكرة المهدي 91 اس ترقی کے بعد مرحوم دار الامان آئے اور جس وقت یہ آئے تو حسن اتفاق سے حسب عادت شریف خاکسار کو حضرت اقدس نے بلوایا اور فرمایا جلد آؤ ہم لکھتے لکھتے تھک گئے کچھ مضمون لکھوانا ہے میں نے یہ موقعہ مرحوم کے حضرت اقدس کی خدمت بابرکت میں باریاب کرانے کا غنیمت جانا اور مرحوم کو ساتھ لیکر حاضر ہوا حضرت اقدس علیہ السلام مرحوم کی صورت دیکھ کر ہنسے اور مصافحہ کیا بعد مصافحہ مرحوم نے آپ کے قدم پکڑ کر منہ سے چوم لئے حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا ایسا نہیں چاہئے صرف مصافحہ کافی ہے جو مسنون طریق ہے پھر فرمایا کب آئے مرحوم نے عرض کیا ابھی حاضر ہوا ہوں۔فرمایا اچھا وقت اور فرصت کا وقت ملاقات کے لئے ملے گا۔صاحبزادہ صاحب کو بلوایا تھا آپ سے بھی دیر تک ملاقات کا وقت نکل آیا ایسے وقت کم ہی ملتے ہیں۔حضرت اقدس دو گھنٹہ تک مضمون عربی کا لکھواتے رہے اور شملتے رہے۔اور اس وقت جو زبان مبارک سے حضرت اقدس فرماتے تھے میں لکھتا جا تا تھا۔ایک ہفتہ مرحوم دار الامان میں رہ کر واپس ملازمت پر مقام سنگرور چلے گئے کوئی تین مہینے کے بعد مرحوم کا خط میرے پاس آیا کہ میں سخت بیمار ہوں۔اور میری زندگی کی کوئی صورت نہیں یہاں کے طبیبوں سے علاج کرالیا کچھ فائدہ نہیں ہوا اور میرا ارادہ ہے کہ میں دارالامان حاضر ہوں اور حضرت مولانا نور الدین سے علاج کراؤں اور حضرت سے دعا اس خط کے دو تین روز بعد اچانک آدھی رات کو مرحوم معہ فیض اللہ صاحب خالدی ہمشیرہ زادہ اور حاجی حکیم اللہ جیندی اور خسرہ پورہ اودھ سپاہی سرکاری ریاست سنگرور کے ڈولی میں سوار آگئے اس وقت میں نے ان کو مہمان خانہ میں ٹھرایا اور صبح کو حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں خاکسار نے عرض کیا کہ شیخ یوسف علی نعمانی سخت بیمار ہو کر آئے ہیں چل پھر نہیں سکتے فرمایا اللہ تعالیٰ رحم کرے کہاں ٹھہرایا میں نے عرض کیا فی الحال مہمان خانہ میں برلب تالاب ٹھہرا دیا ہے فرمایا ٹھہرو ہم بھی ان۔