تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 92 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 92

تذكرة المهدى 92 حصہ اول ملنے کے لئے چلتے ہیں وہ بیمار ہیں عیادت بھی ہو جائے گی پھر حضرت اقدس علیہ السلام معہ چند احباب جو اس وقت حاضر تھے مہمان خانہ میں مرحوم کے پاس تشریف لے گئے اور ان کو دیکھا اور مرض کا حال دریافت فرما کر خاکسار کی طرف مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا کہ ہمارے پاس کے مکان میں لے جاؤ تاکہ ہم ان کو ہر روز دیکھتے رہیں یہ جگہ دور ہے اور فرمایا کہ کھانے کے واسطے اطلاع دیتے رہو جیسا کھانا چاہیں وہ تیار ہو جایا کرے اور کسی چیز کی تکلیف نہ ہو۔مرحوم نے عرض کیا کہ غریب نواز میں حضور کے قدموں میں اس واسطے حاضر ہوا ہوں کہ یہاں دعا اور دوا دونوں ہیں اور یہ ارادہ کر کے آیا ہوں کہ اگر شفا ہو تو حضور کے روبرو ہو اور جو موت مقدر ہے تو حضور کے قدموں میں ہو جمال یار گرپیش نظر ہو کسی کا کس طرح داں پر گزر ہو مزه آجائے مرنے میں بھی ہم کو قدم ہوں یار کے اور اپنا سر ہو پس مرحوم کو حسب الارشاد قریب کے مکان میں ٹھرایا گیا اس زمانہ میں حضرت اقدس مسیر کے لئے ہر روز ایک دو میل بعد طلوع آفتاب تشریف لے جایا کرتے تھے اور بعد واپسی اگر چہ تکان بھی ہو تا۔تب بھی یوسف مرحوم کے پاس جاتے اور حضرت مولانا نور الدین صاحب خلیفتہ المسیح رام اللہ فیضہ کا علاج ہونے لگا۔اور روز بروز فائدہ کی صورت نظر آنے لگی اور جناب ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب حسب الارشاد علیہ السلام معالجہ میں مشورہ دیتے رہے اور مولوی قطب الدین صاحب اور مفتی فضل الرحمان صاحب نے بھی جزا ہم اللہ خیر الجزاء بڑی مدد دی۔اور وقت پر ادویات پہنچاتے رہے۔ایک روز بارہ بجے رات کے مرحوم کا شیخ یوسف علی کی صحت یابی اتفاقا تنگ حال ہو گیا اور قضاء وقدر کے ماتحت موت کے آثار ہو کر جان کندن شروع ہو گئی میرے مکان پر شیخ فیض الله احمدی ہمشیرہ زاده مرحوم آئے اور یہ حالت بیان کی میں سن کر حیران ہو گیا