تذکرۃ المہدی — Page 252
تذكرة المهدى 252 - مسجد میں بھی یہی لوگ کہتے تھے کہ یہ شخص مسیح موعود ہے۔غلام قادر فصیح اور محمد خان صاحب اس بات کو سن کر بہت ہنستے اور میں بھی خوش ہو تاکہ کاش اگر یہ لوگ حملہ کریں تو مجھ پر کریں۔اور آج میں حضرت اقدس علیہ السلام کے اوپر سے قربان ہو جاؤں اور شہادت کبری کا درجہ پالوں۔مگر حضرت اقدس علیہ السلام کو کوئی آسیب کوئی آزار کوئی تکلیف نہ پہنچے میں نے بعض لوگوں کے دامنوں میں پتھر دیکھے اور یقین کامل ہو گیا کہ آج مسیح ناصری والا دن ہے اور مولوی بڑے بڑے جیسے اور عمامے باندھے اور لباس فاخرہ پہنے فریسیوں فقیہوں کی طرح اکٹر اکٹر کے چلتے پھرتے تھے۔اور حضرت اقدس کا لباس سادہ ایک پاجامہ پنجابی سادی سوی یا چار خانہ کا نیم ساق اور سادہ جو تازری کا وہ بھی مدت کا پہنا ہوا پرانا سفید عمامہ سر پر ایک چونہ ایک کرتہ بس اللہ اللہ خیر صلہ اس سادگی پر بھی طرحداری اور نزاکت وغیرہ کوئے سبقت لے گئی تھی۔اتفاق سے بہت لوگوں میں یہ چرچا ہوا کہ یہ لوگ کلمہ نہیں پڑھتے اور منکر کلمہ ہیں۔اور بعض نے کہا نہیں ایسا نہیں ہے اگر یہ کلمہ نہیں پڑھتے تو مسجد میں کیوں آتے اور قرآن شریف اور حدیثوں اور تفسیروں کی کتابیں ان کے پاس کیوں ہو تیں آخر ایک ضعیف العمر پیر صاحب آگے بڑھے اور کہنے لگے کہ میاں صاحبزادہ صاحب وہ مجھ سے پہلے سے واقف تھے کہنے لگے تم لوگ کون ہو میں نے کیا ہم مسلمان ہیں پھر کہا کہ تمہارا مذہب کیا ہے میں نے کہا اسلام ہے پھر پوچھا کہ تمہارا طریق کیا ہے اس سے مطلب انکا شاید خفی شافعی وغیره یا چشتی قادری و غیره ليا مقلد غیر مقلد ہو گا میں نے کہا اسلام پھر دریافت کیا کہ تم کلمہ نہیں پڑھتے ہو میں نے کہا ہاں پڑھتے ہیں انہوں نے کہا اگر کلمہ پڑھتے ہو تو پڑھ کر سناؤ میں نے پڑھا لا إله إلا الله محمد رسول اللہ اب وہ پیر صاحب لوگوں کی طرف مخاطب ہوئے جنہوں نے یہ کہا تھا کہ یہ تو کلمہ طیب پڑھتے ہیں تم تو کہتے تھے نہیں پڑھتے بعض نے کہا ہم نے تو ایسا ہی سنا تھا اب کانوں سے سن لیا کہ پڑھتے ہیں