تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 253 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 253

تذكرة المهدى 253 مولویوں کے بہکائے ہوئے تھے کہا نہیں جی اس وقت زبان سے ڈر کے مارے کلمہ پڑھ دیا ہے ورنہ یہ لوگ نہیں پڑھتے پیر جی صاحب نے کہا دل چیر کر تم نے دیکھا ہو گا ہم تو ظاہری طور پر دیکھتے ہیں۔پھر پوچھا کہ تم نبیوں رسولوں ولیوں کو مانتے ہو میں نے کہا ہاں اگر نبیوں رسولوں اور ولیوں کو نہ مانتے تو حضرت اقدس علیہ السلام کو ولی اللہ اور صحیح موعود کیوں مانتے اس کے بعد ان سب میں نا اتفاقی ہو گئی اور لڑنے جھگڑنے لگے لیکن جوانان پولیس نے جو وردی پہنے ہوئے کھڑے تھے انکو ہٹا دیا۔اس عرصہ میں مولوی نذیر حسین صاحب اور ساتھ ان کے مولوی محمد حسین اور مولوی عبدالمجید وغیرہ علما آگئے اور مولوی نذیر حسین صاحب کو الگ ایک دالان میں جا بٹھایا اور حضرت اقدس علیہ السلام کے سامنے نہ لائے یہ ان کو خوف تھا کہ مبادا حق غالب آجاوے اور حضرت اقدس کا روئے منور دیکھ کر کوئی ایسی بات نہ کہدیں کہ جس سے ہمارا سارا کیا کرایا برباد ہو جاوے پھر عصر کی نماز ہوئی اور عصر کی جماعت کھڑی ہوئی۔چونکہ ہم باجماعت نماز جمع کر کے پڑھ کے آئے تھے ہمیں کیا غرض تھی کہ شریک ہوں ان لوگوں نے چاہا کہ یہ نماز میں شریک ہوں تکبیر ہو چکی اور ہمارے شامل ہونے کا انتظار کیا کسی نے کہا آئیے نماز پڑھ لیجئے مولوی عبد الکریم صاحب نے فرمایا کہ ہم نماز جمع کر کے آئے ہیں؟ غیر مقلد چونکہ جمع کرنے کو جائز رکھتے ہیں لیکن عام لوگ حنفی زیادہ تھے کہنے لگے کہ نماز جمع کرنے کے کیا معنے یہ کوئی رافضی ہیں اتنے میں ایک مولوی صاحب آئے اور حضرت اقدس علیہ السلام کے سامنے چیکے آکر جھک کر کہا کہ اگر چہ آپ نماز پڑھ کر آئے ہو۔پھر بھی شامل ہونا حدیثوں سے ثابت ہے۔مولوی عبد الکر صاحب نے فرمایا کہ ہم خوب جانتے ہیں ہم باجماعت نماز پڑھ کر آئے ہیں پس ان سب لوگوں نے باجماعت نماز ادا کی لیکن مولوی نذیر حسین کو نماز میں بھی دور کھڑا کیا۔