تذکرۃ المہدی — Page 236
تذكرة المهدي 236 ایک مصرع عربی زبان کا پڑھا جو وہ مصرع مجھے یاد تھا مگر اس وقت ذہن سے اتر گیا اس میں ایک لفظ تھا تُو فى كُلِّ نَفس اور کہا کہ دیکھئے یہ شاعر قدیم عرب جاہلیت کا کیا کہتا ہے حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب یہ کس باب سے ہے حضرت اقدس علیہ السلام کا یہ فرمانا اور شمس العلماء کو کسوف لگ جاتا ہوا۔مولوی صاحب ایسے غروب ہوئے کہ سر نہ اٹھایا پھر بہت دیر کے بعد کہنے لگے کہ ہاں ہاں حضرت میں غلطی پر تھا آپ سچ فرماتے ہیں معاف فرمائیے از خوردان خطار از بزرگان عطاء اللہ اللہ باتیں یہ لیکن باہر جاکر اور گھر پر لوگوں سے یہ کہا کہ مرزا بھلا مجھ سے مقابلہ کر سکتا ہے مجھ سے بمنت و سماجت مرزا نے یہ کہا کہ حضرت مولوی صاحب میں آپ سے مباحثہ نہیں کر سکتا۔آپ سے مقابلہ کرنے کی تاب مجھ میں نہیں ہے میں نے غلطی سے آپ کا نام لکھ دیا تھا میں نے مرزا کو ایک ہی سوال میں لے ڈالا۔جب ایسے مولوی ہوں اور ایسے ان کے پیرو ہوں تو لٹیا کیوں نہ ڈوبے - اور دین کیسے تباہ نہ ہو ان کی ایسی کرتوتوں نے اس امام معصوم کو مبعوث کرایا مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللهُ بِنُورِ هِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لا يُبْصِرُونَ صُمٌّ بُكُم عُنى فَهُمْ ٥ لا يَرْجِعُونَ حالانکہ اس وقت میں بچیں آدمی ان کے ساتھ کے بھی تھے انہوں نے بھی جھوٹ بولا۔درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔اگر یہ ایسے نہ ہوتے تو مسیح موعود حکم و عدل کے بھیجنے کی خدا کو کیا ضرورت پڑی تھی بیماریوں کے لئے ہی طبیب کی ضرورت پڑتی ہے دل زبان جسم ان کے سب بگڑ گئے واقعی یہ لوگ دابتہ الارض ہیں صورت تو ان کی انسانوں کی مگر اعضا اور دل ان کے حیوانوں کے مشابہ ہیں حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن العربی اپنا مشاہدہ اپنی کتاب میں تحریر فرماتے ہیں کہ ایک صوفی صافی ہمارے دوست تھے انہوں نے کہا کہ خدا نے مجھ پر یہ عنایت کی اور یہ فضل فرمایا ہے کہ میں اپنی باطنی آنکھ سے شیعہ یعنی