تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 235 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 235

تذکرة الحمد کی 235 علی شاہ صاحب نے جو کہ المکار پولیس تھے ایک بات کی تو مرزا حیرت صاحب حیرت میں ہو گئے اور چل دیئے۔ایک دم ٹھہر نہ سکے سچ ہے چور کے پاؤں نہیں ہوتے دہلی میں لوگوں نے حضرت اقدس علیہ السلام کے ساتھ وہ وہ حرکتیں کیں کہ اگر میں تمام و کمال مفصل لکھوں تو سفرنامہ رہ جاوے اور یہ بیان مشکل سے ختم ہو دے ایک اشتہار مولویوں کی طرف سے نکلا اس میں منجملہ اور مضامین کے ایک بات یہ بھی تھی کہ دہلی کا بچہ بچہ صحیح ہے اللہ اکبر کیسا بڑا بول ہے۔كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا بچه بچه خود بخود صبیح جاوے مگر خد اتعالیٰ کا بنایا ہوا مسیح نہ بنے اللہ اکبر حضرت اقدس علیہ السلام کا حوصلہ دیکھو کہ ان باتوں پر کوئی فکر نہیں کوئی غم نہیں۔صدمہ نہیں۔لوگ ٹھٹھا کرتے ہیں تمسخر اڑاتے ہیں اس مامور کی ہر ایک بات کو ذلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ذلت کے درپے ہیں۔مگر اس مامورو مرسل کو ان کی ذرہ بھی پروا نہیں خیال تک نہیں کہ یہ کیا بلا ہیں اور کیا بکتے ہیں اور کیا کر رہے ہیں ؟ مفسر حقانی کی کہانی شمس العلماء مولوی عبدالحق صاحب دہلوی کو دیکھو کہ زبان پر کچھ اور دل میں کچھ یہ حضرت اقدس کی خدمت میں ایک روز آئے اور آئے یوں کہ حضرت اقدس نے ایک اشتہار مباحثہ کے لئے دیا تھا۔چونکہ اس میں نام ان کا بھی تھا ان کو فکر پڑا اور گھبرائے ہوئے آئے کہنے لگے حضرت میں تو آپ کا بچہ ہوں۔آپ میرے بزرگ ہیں۔آپ کا مقابلہ بھلا مجھے جیسا نا چیز آدمی کیا کر سکتا ہے۔ایسی ایسی باتیں منافقانہ بنا کر کہنے لگے کہ میرا نام اشتہار مباحثہ سے کاٹ دیں۔میں ایک فقیر گوشہ نشین اور ایک درویش زاد یہ گزین ہوں۔اور ان مباحثات سے مجھے کوئی سروکار نہیں ہے۔آپ نے فرمایا کہ اچھا تم ہی مولوی صاحب اپنا نام اپنے ہاتھ سے کاٹ دو۔پس مولوی صاحب شمس العلماء نے اپنا نام اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا۔ایک بات یاد آئی کہ مولوی عبدالحق صاحب شمس العلماء نے وفات مسیح پر کچھ کلام کر کے