تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 233 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 233

تذكرة المهدى" 233 جن لوگوں نے آپ کو مسیح و مامور مانا ہوا ہے اور حسن ظن سے کام لیا ہے۔وہ بدظن ہو جاتے اور بھاگ جاتے اور خاکسا راقم الحروف تو سب سے پہلے فرار ہو تا، اور کبھی بھی پاس نہ پھٹکتا۔آپ وہ لائے اور اسی کا نمونہ بن کر دکھا دیا جو اگلے پیغمبر و رسول مامور اولیاء لائے تھے۔ناظرین اس بات کو بھی یاد رکھیں کہ پہلے تو یہ بات ہوئی تھی کہ دہلی (دمشق) والوں سے عام جلسہ میں مباحثہ تقریری کی درخواست تھی حضرت اقدس علیہ السلام نے تحریر پر زور دیا اور عام جلسہ منظور نہیں فرمایا کہ عام لوگ فساد کر بیٹھتے ہیں۔تحریری مباحثہ منظور ہوا مگر دوسو آدمی دہلی والوں نے چاہے تھے لیکن حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ اہل شہریوں تو غل شور مچانے میں اور فساد کرنے میں دلیر ہیں اور بحث کے وقت خدا جانے یہ کیا فتور اٹھا دیں گے یہ مباحثہ تحریری ہے جب تحریرمیں طرفین کی چھپ جائیں گی تو سب پڑھ لیں گے صرف دس آدمی مولوی محمد بشیر کے ساتھ ہوں اور دس آدمی ہمارے ہوں۔اور یہ دس آدمی چیدہ سنجیدہ اہل علم ہوں۔نوبت با نیچار سید کہ سو سو آدمیوں پر و مشقی لوگ آگئے حضرت اقدس علیہ السلام نے نہ مانا پھر پچاس پچاس آدمیوں پر اڑ گئے حضرت اقدس نے یہ بھی نہ مانا میں نے عرض کیا کہ میری بھی عرض ہے۔فرمایا کیا میں نے عرض کیا کہ حضور پچاس پچاس آدمی رہنے دیجئے۔ہماری طرف سے تو دس بارہ ہی آدمی ہیں۔ان کی طرف سے پچاس ہو جائیں گے تو کچھ مضائقہ نہیں کیونکہ بحث تحریری ہے اور تحریر میں دیر لگتی ہے بولنے کا کچھ کام نہیں دہلی والوں کو بولنے کا شوق ہے اور جب تک یہ نہ بولیں تو ان کو چین نہیں پڑتا۔ان کے پاس صرف ایک زبان ہی ہے یہ کوڑی کے بھی مول کی نہیں ہے حضور کا یہ شعر ہے۔جز یک زبان شان که نیرزد بیکدرم یہ بیٹھے بیٹھے گھبرا جا دیں گے کوئی ست ہو جاوے گا کوئی بے لطفی سے کوئی