تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 234 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 234

تذكرة المهدى 234 مه اول سمتی سے کوئی نیند سے اونگھنے سے چلے جاویں گے صرف دس بارہ ہی آدمی رہ جاویں گے ایک روز تو پچاس آدمی آجاویں گے لیکن دوسرے روز آپ ہی گھبرا کر اکتا کر نہیں آویں گے۔فرمایا کہ اچھا پچاس آدمیوں کی اجازت دے دو خدا کی قدرت ایسا ہی ہوا ایک روز تو پچاس آدمی آگئے اور ایک گھنٹہ میں ہی لوگ چپ چاپ بیٹھے بیٹھے گھبرا گئے یہ چوتڑ چل آدمی کیونکر خاموش بیٹھ سکتے ہیں کوئی اونگھنے لگا کوئی جمائیاں لینے لگا ایک آدھ گھنٹہ میں ہی اٹھ اٹھ کر چلائیے۔مرزا حیرت صاحب بھی تشریف لائے تو انگریزی مرزا حیرت کا حال لباس پہنے اور الٹی مانگ بائیں آنکھ کی طرف انگریزی فیشن کی نکالے ہوئے سر برہنہ تھے یہ بھی خاموش بیٹھ نہ سکے آدھ گھنٹے سے پہلے ہی اٹھ کر چل دیئے ایک روز یا دو روز پیشتر مرزا حیرت صاحب نے یہ کام کیا تھا کہ ایک اشتہار چھپوایا جس کے ایک کالم میں عربی عبارت تھی اور دوسرے کالم میں اردو عبارت تھی۔یعنی عربی کا ترجمہ اور آپ ان اشتہاروں کو لے کر فتح گڑھ کے مینار پر چڑھ بیٹھے اور وہاں سے وہ اشتہار پھینکنے لگے۔اس اشتہار کا خلاصہ مضمون یہ تھا کہ کہ میں اصل مسیح آسمان سے اترا ہوں اور دہلی میں دجال آیا ہوا ہے (نعوذ باللہ منہا) میں اس کے قتل کے لئے آیا ہوں۔میرزا حیرت صاحب نے بھی دہلی کو دمشق بنا دیا کہ آپ اصل مسیح بنے اور معاذ اللہ حضرت اقدس کو دجال بنایا دہلی دمشق آپ ہی ہوئی نہ اصل مسیح نہ اصل دمشق یونکہ یہ مضمون اشتہار سب مولویوں وغیرہ کے مشورہ سے تھا تو کسی نے بھی یہ نہ کہا کہ میرزا حیرت کفر کہتا ہے اور کسی نے کفر کا فتویٰ تو کیا فسق کا فتویٰ نہ دیا۔الكفرُ مِلَّةَ وَاحِدَةً ميرزا حیرت مذکور ایک روز مصنوعی انسپکٹر بنے اور حضرت اقدس علیہ السلام سے کہا کہ میں انسپکٹر ہوں سرکار سے حکم ہوا ہے کہ یہاں سے ، جاؤ ورنہ تمہارے حق میں اچھا نہ ہو گا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اُن کے کہنے پر بالکل خیال تک بھی نہ کیا۔اور بات تک بھی نہیں کی۔صرف سید امیر