تذکرۃ المہدی — Page 153
تذكرة المهدي 153 مت لگانا عرض کیا کہ بہت اچھا فرمایا کل صبح کو چلے جانا فرمایا آج کیا دن ہے عرض کیا اتوار ہے فرمایا پیروں کا سفر پیر کو ہی بہتر ہے اور پیر کو ہی واپس آجانا سو میں پیر کو موافق حکم روانہ ہوا اور پیر کو ہی واپس آگیا اگر چہ سب نے تقاضا ٹھرنے کے لئے تو بہت کیا لیکن میری بیوی نے کہا کہ حکم امام علیہ السلام اور عہد کے خلاف نہیں کرنا چاہئے جب پیر کے روز حاضر ہوا دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے فرمایا۔آپ تو ہماری مجلس کی رونق ہی لے گئے تھے نور محمد ہانسوی لودھیا نہ رہا اور اس عرصہ میں اللہ بندہ ہانسوی بھی ہانسی سے حضور کی خدمت میں حاضر ہو گیا تھا میں تین چار ماہ تک آپ کی خدمت میں رہا۔ایک روز میں نے عرض کیا کہ حضرت جب سے آپ سے بیعت کی ہے تب سے سلسلہ بیعت تو جاتا رہا اور لوگ بیعت کے لئے بہت چاہتے ہیں اب کیا حکم ہے آیا بیعت کروں یا نہ کروں فرمایا نیک صالح آدمی دیکھ کر بیعت کر لیا کر و بیعت تو عمدہ چیز ہے پھر اس پر ایک بزرگ کی حکایت فرمائی کہ ایک بزرگ تھے ان سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے بھی کوئی نجات کا سامان تیار کیا ہے اس بزرگ نے فرمایا کہ ہاں بہت بڑا سامان تیار کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ میں نے ستر آدمی بیعت کئے ہیں جن کو توبہ کرائی ہے اس شخص نے کہا کہ یہ کیا نجات ہوئی یہ تو اور گلے میں بار بوجھ ڈال لیا فرمایا بوجھ بار والوں کے واسطے بوجھ بار ہے لیکن ہمارے واسطے نجات کا سامان ہے کیونکہ میں نے بیعت تو بہ لی ہے انہوں نے میرے ہاتھ پر توبہ کی ہے سو ہم بھی تو بہ میں شریک ہو گئے اگر چہ مجھے حضرت اقدس علیہ السلام نے بیعت لینے کی اجازت تو دیدی تھی لیکن میں نے بیعت لینی مناسب نہیں سمجھی جب امام وقت موجود ہے تو ہماری کیا حاجت ہے اور پھر نیک صالح کی قید لگاوی نہ کوئی نیک صالح ملا نہ کسی کو بیعت کیا۔اب پھر اسی مضمون کو لکھتا ہوں کہ مولوی واقعات مباحثہ لدھیانہ ابو سعید محمد حسین لدھیانہ آئے اور پیام