تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 154 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 154

تذكرة المهدى 154 و سلام مباحثہ کے پہنچائے رات کے وقت اللہ دین واعظ لدھیانوی اور مولوی عبد الله محمد مرحوم اور مولوی رحیم بخش لاہوری اور مولوی نظام الدین آئے اور ایک میں اور ایک حضرت اقدس بیٹھے تھے ان تینوں نے عرض کیا کہ حضرت آپ تو اللہ والے ہیں اور مولوی محمد حسین کالا ناگ ہے اور حنفیوں سے بہت موقعوں پر مباحثہ میں فتح پائے ہوئے ہے۔اور بہت چلتا پرزہ آدمی ہے آپ اس سے بحث نہ کریں آپ کا کام بحث کا نہیں ہے فرمایا اس کو کوئی اللہ والا نہیں لما - انشاء اللہ بحث ہونے دو اس کی علمیت کی پوری حقیقت کھولدی جاوے گی اور یہ جان جائے گا کہ بحث اس کا نام ہے بیچارے ملانوں سے اس کا پالا پڑا ہے اللہ والے اور صاحب بصیرت سے کبھی کام نہیں پڑا۔پھر فرمایا کہ اس کے دماغ میں تکبر کا کیڑا ہے وہ جب تک نہیں نکلے گا تب تک ٹھنڈک نہیں پڑے گی۔پھر مولوی عبداللہ مرحوم نے عرض کیا کہ بحث کس مسئلہ میں ہوگی فرمایا وفات مسیح میں بحث ہوگی اور یہی اصل ہے عرض کیا کہ اگر وہ وفات مسیح میں بحث نہ کرے کیونکہ میں نے سنا ہے کہ وہ وفات مسیح کے مسئلہ کو نہیں چھیڑے گا وہ تو نزول مسیح کے مسئلہ میں گفتگو کرے گا فرمایا نزول مسیح کی بحث سے کیا تعلق ہے نزول مسیح تو ہم خود مانتے ہیں اگر نزول مسیح ہم نہ مانتے تو ہمارا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا کب چل سکتا تھا پھر تو ہمارا دعوئی اور بنائے دعوئی ہی غلط تھا اور جو اس نے نہ مانا اور وفات مسیح کی بحث ترک کی اور نزول مسیح پر ہی زور دیا تو لا محالہ وفات مسیح کی بحث تو ضرور آوے گی پھر اس پر ایک مثال فرمائی کہ ایک زمیندار کسی کے کھیت میں چلا گیا اور کچھ بالیں توڑلیں مالک آگیا اور کہا کہ میرے کھیت میں سے بالیں کیوں توڑیں اس نے جواب دیا کہ کل تو نے اپنے بیٹے کی شادی کی میرے پاس کوئی آدمی بلانے کے لئے اور مشورہ کے لئے کیوں نہ پہنچا اس نے کہا کہ ذکر تو بالوں کے توڑنے کا ہے اور تو شادی کا ذکر لے بیٹھا اس نے جواب دیا کہ گلاں وچوں گلاں نکل آوندیاں نیں۔پنجابی الفاظ میں یہ جملہ اس وقت حضرت اقدس