تذکرۃ المہدی — Page 152
تذكرة المهدي 152 حصہ اول و سرور سب کچھ حاصل ہو جاوے گا فرمایا انسان کی حالت زمین کی حالت ہی ہے بعض جگہ پانچ سات ہاتھ پر پانی نکل آتا ہے بعض مقام پر دس میں ہاتھ پر اور بعض مقام پر پچاس سو ہاتھ پر پانی نکلتا ہے سو انسان جس قدر جد و جہد کرے گا اسی قدر جلد پانی نکلے گا انسان کو دعاؤں اور نمازوں میں تھکتا اور ماندہ ہونا اور ست ہونا نہیں چاہئے جیسے کنواں کھودنے والے نا امید نہیں ہوتے ایک روز ایسا ہوتا ہے کہ پانی نکل آتا ہے سو نماز پڑھنے والا کبھی نہ کبھی رحمت الہی کے چشمہ کو پالیتا ہے اور ذوق و شوق کما حقہ حاصل کر لیتا ہے اور یہی انسان کی سعادت اور اس کی خلقت کی علت غائی ہے۔در حقیقت جیسا حضرت اقدس نے فرمایا تھا کہ اسی قدر وظیفہ پڑھو گے تو مرد بن جاؤ گے یہ وظیفہ اور نماز ہی ایسی نکلی کہ بہت مشکل اس کا ادا کرنا ہو گیا اور جب ادا ہوا تو خدا کے فضل سے وہ لذت و سرور اور ذوق و شوق اور کشف حقائق ہوا کہ جو بیان سے باہر ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ اس کو آگے بیان کروں گا۔ہاں پھر میں نے عرض کیا کہ درود شریف کو نسا پڑھا جاوے فرمایا جو درود یاد ہو میں نے عرض کیا کہ آپ اپنی زبان سے فرما دیں تو فرمایا کہ جو نماز میں التحیات کے بعد پڑھا جاتا ہے اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى أَلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ - پھر میں نے ایک روز موقعہ پاکر عرض کیا کہ حضور اجازت دیں تو میں سر سادہ ہو آؤں۔سر سادہ قریب ہے فرمایا کتنی دور ہے عرض کیا کہ سو کوس ہے فرمایا یہ نزدیک ہے ؟ میں نے عرض کیا صبح کی نماز لدھیا نے پڑھی جاوے تو ظہر کی نماز سر مادہ پڑھی جاوے۔سر سادہ میں اسٹیشن ہے فرمایا تم جاتے ہو ہمارا دل نہیں لگنے کا میں نے عرض کیا کہ جلد حاضر ہو جاؤں گا فرمایا ایک ہفتہ سے زیادہ