تذکرۃ المہدی — Page 125
تذكرة المهدى 125 اور ان کے علم و فضل کو سیاہ دھبہ لگتا ہے ان کو لکھو کہ مولوی صاحب آپ تو علم لدنی اور باطنی کے بھی مدعی ہیں اگر ظاہری علم آپ کا آپ کو مدد نہ دے باطنی اور لدنی علم سے ہی کام لیں یہ کس دن کے واسطے رکھا ہوا ہے۔پس میں نے یہ تقریر حضرت اقدس علیہ السلام کی اور کچھ اور تیز الفاظ نمک مرچ لگا کر قلم بند کر کے مولوی صاحب کے پاس بھیج دی۔اس کے جواب میں مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے یہ لکھا میں تقریری بحث کرنے کو طیار ہوں اور اگر مرزا صاحب تحریری بحث کرنا چاہیں تو ان کا اختیار ہے میں تحریری بحث نہیں کرتا لاہور سے بھی بہت لوگوں کی طرف سے ایک خط مباحثہ کے لئے آیا ہے مرزا چا ہے تقریری بحث کرلے۔جب کسی طرح مولوی صاحب کو مفر کی جگہ نہ رہی اور سراج الحق سے مخلصی نہ ہوئی اور لاہور کی ایک بڑی جماعت کا خط پہنچا اور ادھر حضرت اقدس کی خدمت میں بھی اس لاہور کی جماعت کی طرف سے مولوی رشید احمد کے مباحثہ کے لئے درخواست آگئی اور اس جماعت نے یہ بھی لکھا کہ مکان مباحثہ کے لئے اور خورونوش کا سامان ہمارے ذمہ ہے اور میں نے بھی مولوی صاحب کو یہ لکھا کہ اگر آپ مباحثہ نہ کریں گے اور ٹال مثال بتا ئیں گے اور کچے پکے عذروں سے جان چھڑا دیں گے تو تمام اخبارات میں آپ کے اور ہمارے خط چھپ کر شائع ہو جائیں گے پڑھنے والے آپ نتیجہ نکال کر کے مطلب و مقصد اصلی حاصل کرلیں گے ادھر یہ خط و کتابت اور ادھر مولوی محمد حسین بٹالوی کی آمد اور ) شہر لودھیانہ میں شور و شر اور نور افشاں کے ایڈیٹر اور اس کے حامیوں کی جان آفت میں اللہ اللہ یہ نظارہ بھی قابل دید اور قیامت کا نمونہ تھا آنحضرت ا الله کی کمی اور طائفی زندگی نظر آجاتی تھی اور وہی نقشہ ہر وقت پیش نظر تھا۔اگر گورنمنٹ برطانیہ مدظلہ ودام اقبالہ کا سایہ اقبال نہ ہو تا تو ہم لوگوں کو جو چند ایک تھے جبشہ کے مہاجرین کی طرح خدا جانے کہاں ہجرت کرنی پڑتی اور یا