تذکرۃ المہدی — Page 43
تذكرة المهدى 43 طالب علم: جی یہ کتابیں کسی اور نے مولانا کے نام سے لکھ دی ہوں گی۔انہیں باتوں میں وقت گزر گیا اور ریل گاڑی آگئی میں ٹکٹ لینے چلا گیا اور طالب علموں کی اس بے ہودہ بات پر تعجب کرتا رہا کہ حضرت مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب زندہ ہوں اور ان کے نام سے اور کوئی شخص کتاب تصنیف کر کے چھاپ کے مشتہر کر دے اور مولوی صاحب کو خبر نہ ہو آخر کار میں سر سادہ چلا آیا اور دو چار روز کے بعد سہارنپور جانے کا اتفاق ہوا۔جب میں سرسادہ کے سٹیشن پر آیا تو ایک ہند و سٹیشن ماسٹر کا خیال سٹیشن ماسٹر سے ملاقات ہوئی وہ ہندو تھے چونکہ ریل گاڑی کے آنے میں وقفہ تھا دو چار شخص کچھ ہندو کچھ مسلمان آگئے سٹیشن ماسٹر صاحب نے مجھ سے کہا کہ کوئی اخبار قادیان سے آیا ہو میں نے کہا ہاں اخبار بدر قادیان سے حکیم مرزا عباد اللہ بیگ کے پاس آتا ہے ماسٹر صاحب نے بڑی منت سے کہا ضرور میرے پاس اخبار بھیج دیا کرو میں اس کو بڑے غور سے پڑھوں گا اور جو رسالہ یا اشتہار یا کتاب کسی مضمون کے متعلق حضرت مرزا صاحب کا ہو مجھے ضرور دکھا دیا کرو جب تک میں پنجاب میں رہا اکثر کتابیں اور اشتہارات حضرت مرزا صاحب کے دیکھتا رہتا تھا جب سے سر سادہ کے سٹیشن پر آیا ہوں کوئی کتاب دیکھنے میں نہیں آئی ایک کتاب نماز کے بارہ میں حضرت مرزا صاحب نے لکھی ہے اس کا ایک جملہ ایسا اعلیٰ درجہ کی فلاسفی سے پر ہے کہ جب تک کوئی انسان برگزیدہ اور مرسل نہ ہو ایسا جملہ اس کی زبان اور قلم سے نہیں نکل سکتا۔اور وہ یہ کہ نماز در اصل تعلق باللہ عبادت کا نام ہے جس۔سے انسان خدا سے تعلق پیدا کر لیتا ہے یہ کوئی فرض نہیں ڈیوٹی نہیں کہ چارو کا چار اس کے پورے کرنے کے لئے کھڑا ہو بلکہ نماز اس ذوق و شوق اور طلب سے پڑھی جاوے کہ جیسے انسان کو بھوک پیاس کے وقت کھانے اور پانی کی تلاش ہوتی ہے اور انسان ایسی حالت میں سب کام چھوڑ کر خورد و نوش کے لئے اٹھ