تذکرۃ المہدی — Page 280
تذكرة المهدي 280 A حصہ دوم راہیں کھل سکتی ہیں۔اور کس طرح وہ اولیاء الرحمن میں داخل ہو سکتے۔فرقوں کے مٹانے کے لئے اور متفرق لوگوں کو ایک جگہ اور ایک طریق پسندیدہ پر اکٹھا کرنے کے لئے خدا نے اپنے وعدہ کے مطابق مجھے عین ضرورت پر بھیجا۔مجھ سے منہ موڑ کر کیا پھل پائیں گے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ صبیح ناصری جو ان کی نظر میں زندہ ہے وہ ہی آئے مگر وہ فوت ہو گیا اس کی زندگی اور آنا ایک موہوم اور نرا خیال باطل ہے نہ کوئی اس طرح پہلے گیا اور نہ آیا اور نہ اتنی مدت زندہ رہا اب کس طرح خدا کی سنت کے خلاف یہ ان کی امید بر آسکتی ہے۔اس مسیح سے انکار کر کے کیا لیا جو میرا انکار کر کے لیں گے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا جو سانپ بن جاتا تھا وہ بھی ان کی توجہ اور قوت قلبی کا اثر تھا انہیں کے ہاتھ سے سانپ ہو جاتا تھا۔دوسرے کے ہاتھ میں نہیں۔موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد بھی وہ سوتا رہا مگر کبھی سانپ نہ بنا اور ان سے پہلے بھی تھا اور کبھی وہ سانپ نہ ہوا سوٹا کا سوٹا ہی رہا اس سے معلوم ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کی قدی قوت اور توجہ کا اثر تھا اور یہ ثابت نہیں ہو تا کہ موسیٰ علیہ السلام سانپ بنانے کے وقت دعا کرتے تھے یا اس پر کوئی آیت توریت کی پڑھ کر دم کرتے تھے مسیح علیہ السلام بھی اپنی چڑیوں میں اپنی توجہ سے کام لیتے تھے۔ان میں خدا نے یہ قوت قدی یہ تاثیر پیدا کر دی تھی۔اس سے بڑھ چڑھ کر اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء اس میں یہ قوت قدسی اور خاص توجہ رکھی تھی۔یہ الہی قوت تھی جو آپ کو عطا کی گئی تھی جس کا اثر یہ تھا کہ ہاتھوں کی انگلیوں سے اس قدر پانی فوارہ کے طور پر نکلا کہ لشکر سیراب ہو گیا اور چند روٹیوں پر ہاتھ رکھنے سے بہتوں کا پیٹ بھر گیا اور پھر بھی وہ روٹیاں جتنی تھیں بچ رہیں اور آپ کے لعاب دہن مبارک سے کنوئیں کا پانی میٹھا ہو گیا اور ایک شخص کی لڑائی میں آنکھ نکل پڑی تھی آپ کے دست مبارک رکھنے سے وہ آنکھ اچھی خاصی ہو گئی اسی طرح سینکڑوں آپ کے اقتداری نشان ہیں اور ان سے