تذکرۃ المہدی — Page 281
تذكرة المهدى 281 ه دوم زیادہ یہ ہے کہ جب چند لوگوں نے آپ سے نشان طلب کیا رات کا وقت تھا۔آپ نے فرمایا وہ دیکھو آسمان پر نشان ظاہر ہوا اور آپ نے اپنی انگشت شہادت اٹھائی دیکھا تو چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے اور آپ نے ایک مٹھی کنکریوں کی کفار پر پھینکی تو وہ سب اندھے اور بدحواس ہو گئے کون کہہ سکتا ہے کہ آپ نے ان نشانوں کے وقت دعا کی تھی یا کلام الہی پڑھ کر دم کیا تھا یہ توجہ باطنی اور قوت الہی کا کرشمہ قدرت تھا جو ان میں پہلے ہی رویعت رکھا تھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مارٌ ميْتَ إِذْرَ مَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمى - اس سے ہمیں انکار نہیں کہ تھوڑی بہت یہ قوت ہر ایک میں ہے مگر پھر سب میں برابر نہیں اور یہ جو لوگ مسمیریزم یعنی توجہ کرتے ہیں یہ کسی ہے اور اس کو بھی انہوں نے صحیح طور پر استعمال نہیں کیا ایک کھیل تماشہ کے طور پر برتا جو سفلی حالت میں رہ گئے مگر خدا کے ماموروں مقبولوں کی یہ کشش یہ توجہ یہ جذب رہی تھا ایک شخص کسب اور مشق کر کے برسوں میں حاصل کرتا ہے اور اخدا تعالیٰ اپنے برگزیدوں میں وہی طور سے عطا کرتا ہے جس کا کسی مقابلہ نہیں کر سکتے۔ذرہ جگنو یعنی کرم شب تاب آفتاب کا کیا مقابلہ کر سکتا ہے۔فرمایا بیعت میں بھی یہی راز مضمر ہے کہ مرشد کے ہاتھ میں ہاتھ دیکر جو شخص بیعت کرتا ہے تو اس بیعت کنندہ میں وہ قوت باطنی اور طاقت ایمان پیدا ہو جاتی ہے کہ جو برسوں کی عبادت میں وہ لذت اور قوت باطنی حاصل نہیں ہوتی ہے۔روی صاحب فرماتے ہیں۔یک زمانے مجھتے با اولیا بیشتر از صید ساله طاعت بیریا دیکھو ایک درخت ہوتا ہے اس کی جڑ میں پانی دیا جاتا ہے تو تمام پتوں اور شاخوں میں وہ پانی پہنچ جاتا ہے جتنی جتنی جس میں طاقت ہوتی ہے وہ اپنی طاقت کے موافق اس پانی کو اپنے اندر جذب کر کے حصہ رسد لے لیتا ہے اور جب اس درخت سے کوئی شاخ یا پتہ اپنی نافرمانی کی وجہ سے علیحدہ ہو جاتا ہے تو وہ اس پانی