تذکرۃ المہدی — Page 272
تذكرة البدي 272 تذكرة المهدی کا دوسرا حصہ بسم الله الرحمن الرحیم الحمدُ لِلَّهِ وَ سَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفَى حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں تشریف رکھتے تھے۔اور حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول اور مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوئی اور مولوی برہان الدین صاحب علمی اور مولوی محمد افضل صاحب و غیره رضی اللہ عنہم اجمعین اور مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی اور میں بچیں اور صاحب بھی موجود تھے اور خاکسار را قم حضرت اقدس علیہ السلام کے قریب بالکل ملا ہوا بیٹا تھا مختلف باتیں ہوتی رہیں تو اسی کتاب میں درج کی جائیں گی من جملہ ان کے ایک یہ تھی مولوی برہان الدین صاحب علمی نے حضرت اقدس سے عرض کیا کہ حضور یہ الہام جرى اللهِ فِي حُلُ الْأَنْبِيَاءِ میں جو لفظ جری ہے اس کے معنی پہلوان کے ہیں تو اس کا ترجمہ یہ ہوا کہ خدا تعالی کا پہلوان نبیوں کے لباس میں حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ معنے درست نہیں اس کے معنی ہی ہیں کہ اللہ کا رسول عجمیوں کے لباس یعنی صفات میں سب احباب نے بھی دوسرے معنی کی تصدیق کی۔پھر فرمایا ابھی تو ہم زندہ موجود ہیں ہمارے سامنے تو معنوں میں تصرف کرنا درست نہیں پھر مولانا جعلمی نے عرض کیا کہ آپ نے جو من نیستم رسول دنیاورده ام کتاب فرمایا ہے اس لئے میں نے مطابقت دینے کے لئے جری اللہ کے معنی جری اللہ عرض کئے تھے حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ خدا تعالی کا کلام ہے اور وہ میرا خدا کے کلام کو مقدم کرنا