تذکرۃ المہدی — Page 266
تذكرة المهدى 266 ہیں تم کو غرض ہے تو خود پڑھ لو اس پر وہ چڑ گئے اور اپنے امام کو مسجد میں سے بلا لائے اس نے صرف دو آدمیوں سے نماز پڑھائی شاید کوئی ایک منٹ میں ختم کر دی تھی۔اس پر وہ اشخاص مجھ سے بہت ناراض ہوئے مگر وہ کر کیا سکتے تھے۔بس ان کا اتنا بس چلا کہ وہ میرے لڑکے کی نماز جنازہ میں شریک نہ ہوئے اور میں نے بھی کہدیا کہ اگر کسی کا ارادہ نماز کا ہو تو وہ تکلیف نہ کرے کیونکہ ہم اپنے احمدیوں کے جنازہ پر سوائے احمدی کے دوسرے کو پسند نہیں کرتے خواہ وہ امام خواہ وہ ہمارا مقتدی کیوں نہ ہو۔پھر میں نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں عریضہ لکھا کہ آپ ہمارے لئے صبر کی دعا کریں اور جنازہ غائب پڑھیں کہ میرا لڑ کا فرقان الرحمن فوت ہو گیا حضرت اقدس علیہ السلام نے اس کے جواب میں یہ صحیفہ مبارک لکھا اور وہ یہ ہے ۱۳ اگست ۷ ۶ - بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ۔آپ کا عنایت نامہ جو غم اور مصیبت کے صدمہ سے بھرا ہوا تھا مجھ کو ملا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ چونکہ خدا تعالیٰ جبکہ کوئی مصیبت نازل کرتا ہے تو بعد اس کے کوئی راحت بھی پہنچاتا ہے اس لئے اس کے رحم اور کرم سے کسی حالت میں نومید نہیں ہونا چاہئے اور ساتھ ہی توبہ اور استغفار بہت کرنا چاہئے کیونکہ بعض مصائب بعض گناہوں کے سبب سے بھی ظہور میں آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تو ہر چیز پر قادر ہے چاہے تو ایک بیٹے کی جگہ دس بیٹے دیدے وہ سب کچھ کر سکتا ہے آپ کی نومیدی کی عمر نہیں ہے ہم نے بچشم خود دیکھا ہے کہ نوے برس تک جن کی عمر تھی ان کے لڑکے پیدا ہو گئے اور ساتھ ہی پینسٹھ برس تک عورتوں کے بھی اولاد ہو سکتی ہے۔ہاں جب یہ خیال آتا ہے کہ کس قدر فرقان الرحمن کی پرورش