تذکرۃ المہدی — Page 267
تذكرة المهدی 267 کے لئے آپ نے محنت اٹھائی تھی اور کیا کچھ امنگ اور آرزو میں تھیں تو دل پر صدمہ پہنچتا ہے لیکن ایسی مصیبتیں ہر ایک کے ساتھ لگی ہوئی ہیں خداتعالی پر توکل کرنے والے آخر میں راہ کو پالیتے ہیں میرے ہمیشہ خیال میں رہا ہے کہ یہ سفرہی منحوس تھا آپ کو ایسے لوگوں سے تعلقات کرنے پڑے جو سچائی اور راستبازی کے دشمن ہیں اور ہر ایک مکر اور فریب کو حلال سمجھتے ہیں انسان کا قاعدہ ہے کہ تعلق ہونے کے بعد کئی ٹھوکروں میں مبتلا ہو جاتا ہے سو میں اسی لئے ڈرتا ہوں کہ یہ خدا کی طرف سے ایک سرزنش نہ ہو پاکوں اور مقدسوں کو بھی کبھی مصیبت آجاتی ہے۔جیسا لکھا ہے کہ آنحضرت ا کے گیارہ لڑکے مر گئے مگر ساتھ اس کے صبر جمیل تھا کوئی جزع فزع نہ تھا اسی واسطہ لکھا ہے کہ مصیبت دو قسم کی ہے (۱) ایک ترقی درجات کی مصیبت جو نبیوں اور تمام راستبازوں پر آتی ہے۔(۲) اور دوسری جزاء ستیات کی مصیبت جو انسان پر گناہ اور غفلت کی حالت میں آتی ہے۔اور غم کے ساتھ دیوانہ بنادیتی ہے۔بہر حال تو بہ اور استغفار کے ساتھ وہ مصیبت جاتی رہتی ہے اور خدا تعالیٰ نعم البدل عطا کرتا ہے خدا تعالیٰ تو بہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے بجز خدا کی طرف جھکنے کے کوئی چارہ نہیں دنیا کی زندگی کئی قسم کی تلخیوں سے بھری ہوئی ہے مگر جو شخص کچی تو بہ کرتا ہے اور مکر اور فریب کی تمام شاخیں اپنے اندر سے باہر نکال دیتا ہے خدا کی رحمت کا اس پر سایہ ہوتا ہے اور خداتعالی آگ میں سے اس کو نکال لیتا ہے بجز خدا کے کوئی کسی کا ساتھی نہیں جو خدا کی طرف آتے ہیں وہ اس کی رحمتوں کے امیدوار ہو جاتے ہیں اس کی دلوں پر نظر ہے نہ زبانوں پر ہمیں آپ کے فرزند کی وفات کی خبر پڑھ کر بہت