تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 241 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 241

تذكرة المهدي 241 حصہ اول کے حق دار ہم تھے۔حضرت اقدس علیہ السلام ہر ایک کی خاموشی سے بات سنتے اور علم و تحمل کو کام میں لاتے۔آخر کار مجھ سے نہ رہا گیا جب ایک مولوی نے ہاتھ بڑھایا کہ ریش مبارک تک حضرت اقدس کی ہاتھ لے جاکر یہ کلمہ خبیثہ مونہہ سے نکالا تو میرا حق تھا کہ بولوں جس طرح اللہ تعالٰی نے فرمایا الله يَسْتَهْزِئُ بِهِمُ ان کے پاس قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِرُونَ کہنے پر تو میں بے تکلف بول پڑا کہ دور ہو کتے تجھے کیا خبر ہے اور بے تحاشا میری زبان سے نکل گیا کہ میرے ---- کو ہاتھ لگا۔حضرت اقدس علیہ السلام کی طرف ہاتھ کیوں بڑھاتا ہے اس وقت تو حضرت اقدس خاموش ہو رہے اور بڑی بردباری دکھلائی۔اور میں نے چاہا کہ اس کے تھپڑ ماروں وہ مجھے غضبناک دیکھ کر الگ ہو گیا اور دور جا کر کھڑا ہوا۔لیکن بعد میں جب مخالف کوئی نہ رہا تو فرمایا کہ صاجزادہ صاحب ایسا لفظ بولنا زیبا نہیں میں شرمندہ ہو کر چپ ہو گیا اور استغفار جناب باری میں ول میں کرنے لگا۔پھر حضرت اقدس علیہ السلام آپ ہی ہنس پڑے اور فرمایا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی ایک موقعہ پر حدیبیہ پر کفار کے جواب میں جو اس قسم کی حرکت کر بیٹھے تھے جو میرے ساتھ دہلی والوں نے کی تو ان کی زبان سے بھی امصص بظر للات نکل گیا تھا اللہ تعالی معاف فرمائے۔مطلب ان لوگوں کا یہ ہے کہ مسیح تو فوت ہو گیا اور صحیح اس امت سے ہی ہو گا اگر مسیح ہو تا تو دہلی والوں میں سے ہو تا تو ہم مان لیتے گویا اپنے میں مسیح ہونا کر لیتے۔مگر اللہ جل شانہ جہاں اور جس کو بنائے وہ منظور نہیں کرتے ہیں اسی طرح کفار مکہ نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ مکہ طائف کے کسی رئیس مالدار یا عالم کے پاس رسالت آنی چاہئیے تھی اور ہم میں سے کسی کو رسول بنتا تھا یہ محمد ( ﷺ) کیوں رسول بن گیا چنانچہ اللہ تعالٰی نے فرمایا قَالُو الوَلا نُزِّلَ هذَا الْقُرْآنُ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ O آگے پھر اللہ تعالٰی اس کا جواب آپ ہی دیتا ہے کہ اُهُمْ يَقْسِمُونَ