تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 242 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 242

تذكرة المهدي رَحْمَتَ رَبِّكَ 242 کیا ان کے اختیار میں رحمت ربی یعنی نبوت و رسالت رکھی ہے کہ ان کے مشورہ سے دی جاوے۔پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے مولوی نذیر حسین محدث دہلوی کے جواب میں یہ فرمایا کہ مولوی صاحب تمہارے سینکڑوں ہزاروں شاگرد ہیں۔کس کس سے بحث کی جاوے۔ایک شکست کھا جاوے دوسرے کو کھڑا کر دو گے۔دوسرا ہزیمت پا جاوے تیسرے کو کھڑا کر دو گے۔علی ہے القاس چوتھا پانچواں بہتر یہ ہے کہ اس معاملہ میں تم خود ہی بحث کرلو۔تم جڑ کی طرح اور تمہارے شاگرد شاخوں کی طرح سے ہیں جڑ سالم رہی تو شاخیں بھی برقرار رہیں گی۔اور جو جڑ ہی اکھڑ گئی تو پھر شاخیں آپ ہی گر کر سوکھ جاویں گی اور جو یہ منظور نہیں تو ایسا کرو کہ اپنے شاگردوں میں سے جس کے علم و فضل پر بھروسہ ہو اور کامل اطمینان ہو ایک شاگرد میرے مقابلہ پر کرد اور یہ لکھ دو کہ اس کی فتح ہماری فتح اور اس کی شکست ہماری شکست پس یہ بھی مولوی نذیر حسین صاحب کو منظور نہ ہوا۔اور وہی مرغ کی ایک ٹانگ کے گئے۔اور کہتے کس طرح نہیں۔یہودا اسکریوٹی کہلوا رہا تھا۔دابتہ الارض چیونٹیوں کی طرح یا بھڑوں کی طرح پیچھے پڑے ہوئے تھے مولوی نذیر حسین نے ایک دفعہ تو کہا بھی اوے محمد حسین کیوں بڑہاپے میں میری مٹی پلید کراتا ہے اور کیوں مجھے خدا کے رو برو روسیاہ بناتا ہے جانے دے۔مسیح کی حیات کا کہیں بھی اتہ پتہ نہیں کیا تم قیامت کو میری طرف سے جوابدہی کرو گے اس نے خم ٹھونک کر کہا ہاں خدا کے سامنے تمہاری طرف سے جواب دے لیں گے اور یاد رکھنا اگر اس کے بعد ایسا کلمہ پھر منہ پر لائے تو تمہاری زندگی خراب ہو جاوے گی اور سب تم سے پھر جا دیں گے۔کدھر جاؤ گے۔کہاں رہو گے مولوی نذیر حسین پیر فرتوت کا ٹھ کی پتلی کیا کر سکتا تھا اتنا ہوش نہ آیا کہ راستباز کبھی ضائع نہیں ہوتے صادق کبھی ذلیل نہیں ہوتے حضرت مرزا