تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 22 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 22

تذكرة المهدي 22 اول نا مراد چلے جاتے ہیں۔کہا کرامت بھی دکھاتے ہیں میں نے کہا ہاں کرامت بھی منهاج النبوت پر دیکھنے والے دیکھتے ہیں مگر بد قسمت اس سے بھی فائدہ نہیں اٹھاتے اور قساوت قلبی بڑھ جاتی ہے۔کہا ہم تو جب جانیں کہ جو کرامت ہم چاہیں وہ دکھا ئیں میں نے کہا اقتراحی کرامت اور نشان جائز نہیں ہیں اور جنہوں نے اقتراحی نشان مانگا وہ بے نصیب رہے۔مجھے یاد ہے کہ حیدر آباد دکن - ایک مولوی شیعہ نے ایک خط حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا اور لکھا کہ کرامت دکھاؤ۔اگر تم مسیح موعود ہو۔حضرت اقدس علیہ السلام نے عاجزی سے فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب ان کو جواب لکھ دو کہ نشان اقتراحی جائز نہیں۔ہاں نشان یا کرامت مانگنا تو درست ہے مگر اس طور سے نشان طلب کرنا کہ فلاں بات ہو اور فلاں نشان یہ درست نہیں ہے۔اور نہ یہ کسی نبی کے وقت میں ہوا۔قرآن شریف اقتراحی نشان مانگنے والوں کی تکذیب کرتا ہے اور جس نے اقتراحی نشان مانگا وہ مردود رہا۔اقتراحی نشان اس واسطہ مکروہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مالک ہے مملوک نہیں ہے وہ جو چاہے اپنی قدرت کے متعلق یا اپنے رسول کے متعلق یا کسی اور کے متعلق نشان دکھلاوے۔پس یہ اول الذکر سہارنپوری کہنے لگے کہ ہم تو جب ہی مانیں کہ جب ہماری مرضی اور ہمارے کہنے کے بموجب کرامت دکھا دیں میں نے کہا تم تو حافظ قرآن شریف ہو اور پڑھے لکھے بھی ہو کوئی آیت ایسی پیش کرو جس میں یہی مضمون اقتراحی نشان کا ہو اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ دیکھو حضرت شرف الدین بو علی قلند ر پانی پتی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس چند ایک عورتیں مسلمان اور ہندو آئیں انہوں نے کہا کہ حضرت ہمارے اولاد نہیں ہوتی ہے اولاد در - قلندر صاحب اس وقت حلوہ کھا رہے تھے۔پنے آگے سے ایک لقمہ حلوہ کا سب کو دیا اور کہا لو تمہارے بیٹے ہی بیٹے ہوں گے۔دختر نہیں ہوگی۔ان سب عورتوں نے تو حلوہ کھالیا۔لیکن ایک ہندو عورت نے حلوہ پس خوردہ نہیں کھایا اور واپس چلی گئی۔اور ایک جھاڑ میں وہ لقمہ حلوہ کا