تذکرۃ المہدی — Page 163
تذكرة المهدى 163 علیہ السلام کو کہتے تھے اور لامذ ہب مولوی محمد حسین کو کہتے تھے۔ایک دن عباس علی نے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت اس مولوی محمد حسین نے جو چوری کی ہے اس چوری کا حال بھی آپ جتلا دیں فرمایا ہاں ہاں موقعہ آنے دو۔جتلا دیں گے اور وہ چوری یہ ہوئی کہ کتاب ازالہ اوہام جو امر تسر میں شیخ نور احمد صاحب کے اہتمام میں چھپتی تھی اس کا ایک پروف روزانه حضرت مولانا نور الدین صاحب کی خدمت میں جموں جایا کرتا تھا اور غزنویوں میں سے ایک حضرت مولانا کا داماد بھی تھا اس نے کچھ ورق ازالہ اوہام کے چرا کر مولوی محمد حسین کے پاس بھیج دیئے تھے جن کا حوالہ مولوی محمد حسین نے اپنے مباحثہ کے تحریری پرچہ میں دیا ہے۔غزنوی مولوی ثم امرتسری کا یہ فتویٰ ہے کہ غیر مذہب والے کی چوری جائز ہے خواہ حنفی ہو یا شافعی یا وہابی یا شیعہ یا خارجی اور دیگر مذاہب کے ہاں چوری بالاوٹی جائز ہے اور اس میں کوئی گناہ نہیں ہے اور حضرت اقدس علیہ السلام اور آپ کی جماعت کو تو کافر ہی جانتے ہیں۔اس واسطہ اس سرقہ کے مرتکب ہوئے۔ایک دن حضرت خلیفتہ اصبح نے فرمایا تھا کہ ایک آدمی غزنویوں کا ہمارے پاس رہا کرتا تھا جب سودا منگواتے تو وہ دونی چونی ہر روز لے آتا۔ہم نے ایک روز دریافت کیا کہ تو یہ کہان سے لے آتا ہے اس نے کہا کہ ہمارے مولویوں کا یہ فتویٰ ہے کہ سوائے اہل حدیث کے اور کوئی مسلمان نہیں ہے سب کی چوری کرو۔اور ان کا مال حلال ہے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو۔پھر مجھے یاد نہیں کہ اس کو حضرت خلیفتہ اسیح مدظلہ العالی نے اپنے پاس سے نکال دیا یا کیا کیا۔ایک پشوری شخص حضرت اقدس علیہ السلام کا مرید ہوا اور وہ نانبائی تھا۔لنگر میں روٹی پکایا کرتا تھا وہ کہا کرتا تھا کہ میں نے کتنے ہی حنفیوں کا مال چرا لیا۔اسباب چرا لیا۔روپیہ پیسہ چرالیا اور میں نے یہ فتویٰ امرتسری غزنویوں سے سنا تھا کہ چوری کرنی غیر مذہب والوں کی خواہ وہ حنفی ہوں مقلد ہوں یا کوئی ہوں جائز ہے۔