تذکرۃ المہدی — Page 162
تذكرة المهدي 162 کہ لوگو تم سننے کو آئے ہو یا واہ واہ اور سبحان اللہ کہنے کو آئے ہو اور جو دونوں طرف کی تحریریں ہیں وہ طبع ہو چکی ہیں ان کے لکھنے کی ضرورت نہیں ہے اس مباحثہ میں حضرت اقدس علیہ السلام نے حدیث اور قرآن شریف پر سیر کن بحث کی ہے اور آئندہ کے لئے تمام بحثوں کا خاتمہ کردیا ہے چھ سات روز تک یہ مباحث حضرت اقدس علیہ اسلام کے مکان پر ہوا اب مولوی صاحب نے پیر پھیلائے اور چاہا کہ کسی طرح سے پیچھا چھوٹے۔بہانہ یہ بنایا کہ اتنے روز تو آپ کے مکان پر مباحثہ رہا اب میری جائے فرودگاہ یعنی مولوی محمد حسن غیر مقلد کے مکان پر مباحثہ ہونا چاہئے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ بھی منظور فرمالیا اور باقی دنوں تک مولوی محمد حسن کے مکان پر مباحثہ رہا جب حضرت اقدس علیہ السلام وہاں تشریف لے جاتے تو میں حاضر ہو جاتا ورنہ مجھے بلوا لیتے اور جب تک میں حاضر نہ ہو لیتا تو آپ تشریف نہ لے جاتے آخر کار یہ ہوا کہ چالاکیاں تو مولوی محمد حسین نے بہت کیں مگر کوئی چالا کی نہ چلی لیکن ایک پرچہ پھر بھی چرالیا جس کا مباحثہ میں حوالہ دیا گیا۔مولوی محمد حسن کے مکان پر دو چار ہی لوگ ہوتے تھے تیرہ روز تک یہ مباحثہ رہا اور لوگ بہت سے تنگ آگئے اور چاروں طرف سے خطوط آنے لگے۔اور خاص کر لودھیانہ کے لوگوں نے غل مچایا کہ کہاں تک اصول موضوعہ میں مباحثہ رہے گا اصل مطلب جو وفات وحیات مسیح کا قرار پایا ہے وہ ہونا چاہئے خدا کرے ان اصول موضوعہ مولوی صاحب کا ستیا ناس ہو دے اور حضرت اقدس علیہ السلام نے بھی بار بار فرمایا کہ مباحثہ تو وفات وحیات مسیح میں ہونا ضروری ہے تاکہ سب مسائل کا یکدم فیصلہ ہو جاوے۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر مولوی صاحب اس اصل مسئلہ کی طرف نہ آئے پر نہ آئے مولوی صاحب کے پاس چونکہ دلائل حیات مسیح کے نہ تھے اس واسطہ اس بحث کو ٹالتے رہے شہر میں یہ چرچا ہوا کہ دو شخص بحث کر رہے ہیں ایک خود مذہب ایک لامذہب خود مذہب حضرت اقدس