تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 164 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 164

تذكرة المهدي 164 اول یہ چوری چوری نہیں ہوتی اب حضرت اقدس علیہ السلام سے بیعت کر کے تو بہ کی اور حضرت اقدس علیہ السلام کی تعلیم سے معلوم ہوا کہ کسی کی بھی چوری جائز نہیں ہے خواہ وہ ہندو ہو عیسائی ہو یہود ہو شافعی ہو۔مقلد ہو وہابی ہو موحد ہو۔وہ اپنے واقعات سرقہ کے بہت سنایا کرتا تھا اور پھر روتا اور خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا یہ ہے ان مولویوں کی مولویت اور علم و عمل اور فتوی۔یہ آیت ان ہی لوگوں اور ایسے ہی لوگوں کے واسطے ہے فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَبَ بِأَيْدِيْهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا - قَلِيْلاً فَوَيْلٌ لَّهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِّمَّا يَكْسِبُونَ قاعدہ کی بات ہے کہ جب دنیا میں عالم فاضل اور خاص عام بگڑ جاتے ہیں اور اپنے نزدیک وہ ملائکہ اللہ بنے ہوئے ہوتے ہیں لیکن خدا کی نظر میں وہ ابلیس ہو جاتے ہیں تو خدا تعالیٰ اپنا مامورو مرسل بھیج کر انکی تلبیس کھولتا ہے تب وہ چیختے چلاتے ہیں اور فریاد و شور کرتے ہیں اور مصلح کو مفسد اور صادق کو کاذب اور نامور مرسل کو مفتری کہنے لگتے ہیں۔غرض جب تیرہواں روز مباحثہ کا ہوا تو عیسائی مسلمان ہندو وغیرہ کا بہت ہجوم ہو گیا میں نواب صاحب مرحوم موصوف کی کوٹھی پر تھا اور روانگی کا ارادہ کر رہا تھا۔حضرت اقدس معہ مولوی عبد ا کریم صاحب مرحوم اور خشی غلام قادر صاحب فصیح اور قاضی خواجہ علی صاحب اور الہ دین صاحب واعظ و غیر هم مولوی محمد حسن کے مکان پر تشریف لے گئے اور میرے پاس مولوی نظام الدین مرحوم اور مولوی عبداللہ مجد مرحوم کو بھیجا کہ جلد صاحبزادہ سراج الحق صاحب کو لے آؤ پس میں چلا اور مکان کا دروازہ مولوی محمد حسن نے باشارہ مولوی محمد حسین بند کرا دیا تھا کہ آدمی مرزا صاحب وغیرہ کا مضمون سننے کے لئے نہ آوے۔چونکہ مضمون میرے پاس تھا اور رات بھر میں میں نے اصل سے نقل دینے کے واسطے کرلی تھی اس واسطے اور بھی حضرت اقدس کو میرا انتظار ہوا جب میں آیا تو