تذکرۃ المہدی — Page 151
تذكرة المهدى 151 سے حضور و تضرع اور ذوق حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ فضول ہے وہ ایک آنی اور عارضی ذوق ہوتا ہے جو پاکدار نہیں ہوتا جس کو ایک بار سچا اور حقیقی ذوق اور تفرع حاصل ہو جائے قیام رکوع سجدہ میں بہت دیر لگانی چاہیئے اور تہجد کی نماز ضرور پڑھنی چاہئے میں نے عرض کیا کہ سستی کا بھی کوئی علاج ہے فرمایا اس وقت غسل کر لیا کرو ستی دفع ہو جائے گی ہم بھی غسل کر لیا کرتے ہیں نماز تہجد سے انسان مقام محمود تک پہنچ جاتا ہے مقام محمود وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالی انسان کی حمد کرتا ہے پھر فرمایا قوالی تو سنی ہوگی میں نے عرض کیا کہ ہاں سنی ہے فرمایا وجد آیا عرض کیا کہ ہاں آیا فرمایا دیکھو عین قوالی کے وقت وجد آتا ہے قوالی کے بعد وجد نہیں آتا اسی طرح نماز کے اندر انسان کو وجد آنا چاہئے جو حقیقی وجد ہے اور قوالی کے وقت عارضی وجد ہے جو آنا فانا سب ذوق جاتا رہتا ہے اور نماز کا ذوق شوق و وجد حقیقی ہے جو ہمیشہ رہتا ہے ایک دفعہ فرمایا کہ حقیقی رونا آجاوے تو ہنسنا کیا۔لوگ قوالی میں روتے ہیں وجد کرتے ہیں لیکن تھوڑی دیر کے بعد وہ کیفیت جاتی رہتی ہے جو عارضی ہوتی ہے اور بعد میں سب منہیات اور معاصی کے اسی طرح پابند رہتے ہیں اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے حقیقی لذت و وجد کو قرآن شریف میں فرمایا کہ اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَ الْمُنْكَرِ یہ بات قوالی - کے سننے والوں کو نصیب نہیں ہوتی ہے کیونکہ وہ عارضی ہے ذوق حقیقی سے A ذوق عارضی کو کیا نسبت ہے۔ایک دفعہ ایک شخص نے عرض کیا کہ نماز میں لذت و سرور اور ذوق و شوق کیونکر حاصل ہو۔فرمایا تم نے کبھی شراب پینے والوں کو دیکھا ہے۔عرض کیا کہ ہاں دیکھا ہے۔فرمایا اگر ایک پیالی شراب میں نشہ نہ ہو تو شرابی کیا کرے گا عرض کیا اور پیئے گا۔فرمایا تب بھی نشہ نہ ہو تو پھر عرض کیا اور پی لیوے گا۔فرمایا کب تک عرض کیا جب تک نشہ نہ ہو۔فرمایا یہی حال نماز میں پیدا کرد نماز کا ذوق اور حضور نماز سے ہی ملے گا جب تک لذت و سرور حاصل نہ ہو نماز کو زیادہ دیر تک پڑھو لذت