تذکرۃ المہدی — Page 121
تذكرة المهدى 121 مولوی رشید احمد گنگوہی کا مباحثہ سے انکار میں نے ایک بار حضرت اقدس علیہ السلام سے عرض کیا کہ یہ مولوی رہ گئے اور سب کی نظر مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کی طرف لگ رہی ہے اگر حکم ہو تو مولوی رشید احمد صاحب کو لکھوں کہ وہ مباحثہ کے لئے آمادہ ہوں فرمایا اگر تمہارے لکھنے سے مولوی صاحب مباحثہ کے لئے آمادہ ہوں تو ضرور لکھ دو اور یہ لکھ دو کہ مرزا غلام احمد قادیانی آج کل لودھیانہ میں ہیں انہوں نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ہو گئی ہے وہ اب نہیں آدیں گے اور جس عینی کے اس امت میں آنے کی خبر تھی وہ میں ہوں۔اور مولوی تو مباحثہ نہیں کرتے ہیں چونکہ آپ بہت سے مولویوں اور گروہ اہل سنت والجماعت کے پیشوا اور مقتدا مانے گئے ہیں اور کثیر جماعت کی آپ پر نظر ہے آپ مرزا صاحب سے اس بارہ میں مباحثہ کرلیں چونکہ آپ کو محدث اور صوفی ہونے کا بھی دعوتی ہے اور ماسوا اس کے آپ مدعی الہام بھی ہیں ) مدعی الهام اس واسطہ کر کے کہ مولوی شاہدین اور مولوی مشتاق احمد اور مولوی عبد القادر صاحب نے گنگوہ مولوی رشید احمد صاحب متوفی کے پاس جا کر حضرت اقدس علیہ السلام کے الہامات جو براہین احمدیہ میں درج ہیں سنائے تھے مولوی رشید احمد صاحب نے چند الہام سن کر جواب دیا کہ الہام کا ہونا کیا بڑی بات ہے ایسے ایسے الہام تو ہمارے مریدوں کو بھی ہوتے ہیں اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ آپ کے مریدوں کو اگر ایسے الہام ہوتے ہیں تو وہ الہام ہمارے سامنے پیش کرنے چاہئیں تاکہ ان الہاموں کا یا کہ آپ کے الہاموں کا کیونکہ مریدوں کو جب الہام ہوں تو مرشد کو تو ان سے اعلیٰ الہام ہوتے ہوں گے موازنہ اور مقابلہ کریں اور لَوْ تَقَوَّلُ عَلَيْنَا بَعْضَ الْآفَاوِیل کی وعید سے ڈریں مولوی صاحب نے کہنے کو کہدیا مگر کوئی الہام اپنا یا کسی اپنے مرید کا پیش نہیں کیا