تذکرۃ المہدی — Page 120
تذكرة المهدى 120 دریافت کیا کہ تم کون سے سید ہو اور بارہ اماموں میں سے کسی امام کی اولاد ہو وہ صاحب فرمانے لگے کہ ہم مدنی سید ہیں اور امام اعظم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔میں نے کہا کہ حضرت امام اعظم تو ایرانی کیانی فارسی النسل ہیں ان کا نکاس تو مدینہ سے نہیں ہے اور خود امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ بھی سید نہیں ہیں تم کیسے سید ہو گئے یہ بات سن کر وہ صاحب ناراض ہو کر چلے گئے اور پھر مجھ سے نہیں ملے پس مولوی مشتاق احمد بھی انہیں اور ایسے ہی سادہ لوح آدمیوں میں سے ہیں یہ ان کی مولویت اور علمیت ہے اور باوجود اس کے ان کے فرقہ کے تمام مولوی اسی قسم کے ہیں کہ کسی مولوی نے آج تک یہ نہ کہا کہ بندہ خدا یہ تم نے کیا لکھ دیا کہ جمعہ کی نماز کے بعد خطبہ امام نے پڑھا۔ایک مولوی عبدالکریم صاحب ساکن رام پور ضلع سہارنپور سے جو رشتہ میں میرے دور کے خسر پورہ ہوتے ہیں جو مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے رشتہ دار اور شاگرد اور مرید اور خلیفہ بھی ہیں یہ ذکر آیا کہ مولوی مشتاق احمد صاحب نے یہ کیا لکھا کہ جمعہ کی نماز کے بعد خطبہ پڑھا گیا تو فرمانے لگے کہ غلط لکھا ہے میں نے کہا کہ اس غلطی کا ازالہ کرنا تھا فرمایا ہمارے فرقہ کے مولویوں کی بدنامی ہوتی ہے کون ان باتوں کو دیکھتا ہے جو لکھا گیا سو لکھا گیا۔میں نے کہا کہ بس ایسے ہی مولویوں نے مہدی اور مسیح کے بارہ میں لکھ کر لوگوں کو خراب کیا ایسی ہی ایسی غلط فہمیوں نے دنیا کو برباد کیا یقینا پہلے بھی ایسے ہی بے وقوف مولویوں نے غلط فہمی کی اور مسیح کی بابت کچھ کا کچھ سمجھ لیا اور پچھلوں کو پریشان اور تباہ کیا۔گنگوہی غرض کہ تمام ان مذکورہ بالا مولویوں نے مولوی رشید احمد صاحب سے کہا کہ تم محدث ہو عالم ہو فاضل ہو اور ہمارے پیرو مرشد ہو مفتی ہو مرزا صاحب سے مباحثہ کر لو۔لیکن محدث گنگوہی مباحثہ سے پہلو تہی کرتے رہے اور اپنی جان بچاتے رہے اور اپنے علم کی پردہ دری سے ڈرتے رہے۔