تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 118 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 118

تذكرة المهدى 118 کہ ایک بے علم آدمی سے مباحثہ کروں مجھے خوب یاد ہے کہ مولوی شاہ دین نے اپنے مرشد مولوی رشید احمد صاحب کو لکھا کہ میں مرزا صاحب سے مباحثہ کروں تو کس طرح کروں اور کس مسئلہ میں کروں۔تو جواب آیا کہ تمہارا کام نہیں ہے مرزا صاحب سے بحث کرنا اول تو ٹالدینا اور جو بات نہ ملے اور مباحثہ ہو ہی جائے تو وفات وحیات مسیح علیہ السلام میں ہرگز بحث نہ کرنا کہ اس میں تمہارا یا کسی کا ہاتھ نہیں پڑے گا ہاں نزول میں بحث کر لینا اس مسئلہ میں ہماری کچھ جیت ہو سکتی ہے اسی طرح مولوی مشتاق احمد صاحب سے گذری ملا کی دوڑ مسیت انہوں نے بھی مولوی رشید احمد صاحب کو لکھا اور خود بھی گنگوہ گئے ان کو بھی وہاں سے وہی جواب ملا جو مولوی شاہ دین کو ملا تھا غرضیکہ لودھیانہ دیوبند سهارنپور گنگوه میں بہت سی اسبارہ میں کمیٹیاں ہوئی کہ کیا کرنا چاہئیے ؟ سب نے بحث سے کانوں پر ہاتھ رکھے اور بظاہر مخالفت اور مباحثہ پر جھوٹ موٹ لوگوں کے دکھاوے کے واسطے آمادہ رہے۔مولوی مشتاق احمد انبیٹھوی مولوی مشتاق احمد صاحب انیموری جو لودھیانہ میں ملازم تھے اگر چہ حدیث وانی اور علم کا بہت گھمنڈ رکھتے تھے مگر جہاں تک مجھے معلوم ہے یہ اور مولویوں سے بھی گرے ہوئے ہیں اور ایسے اوندھی کھوپڑی کے انسان ہیں کہ ان کو روز مرہ کے مسائل سے بھی واقفیت نہیں ہے میں ان کو ہمیشہ گستاخ احمد ہی اسی لحاظ سے کہا کرتا ہوں چونکہ انسیٹھ اور گنگوہ اور سہارنپور قریب قریب ہیں اور ہماری اور ان مولویوں کی قرابت داری اور برادرانہ برتاؤ ہے میں ان کے تمام حالات اندرونی اور بیرونی سے خوب واقف ہوں اور مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی اور میں تو علاوہ اور رشتہ داری کے ہمزلف بھی ہیں مولوی مشتاق - احمد صاحب کی اگر شہادتیں لکھوں تو ایک دفتر چاہئے مگر ان کی قابلیت اور علمیت کی ایک بات من جملہ اور باتوں کے لکھتا ہوں جس سے ناظرین خود مولوی