تذکرۃ المہدی — Page 117
تذكرة المهدي 117 حصہ اول کی نیت سے اگر تین کوس جانا ہو جیسے لودھیانہ سے پھور تو نماز قصر کرنی چاہئے یی حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کا معمول تھا اور بعض ضعیف پیر فرتوت اور حامله عورتیں ہیں ان کے لئے تو کوس بھر ہی سفر ہو جاتا ہے ہاں میر کے لئے تو چاہے آٹھ کو س چلا جائے تو نماز قصر نہیں ہے۔یہی باتیں ہوا کرتی تھیں ایک روز میں نے عرض کیا کہ حضرت لوگ بہت تنگ کرتے ہیں فرمایا کہ ایک روز زمانہ آتا ہے یہ خود ہی تنگ آجائیں گے ابھی صبر اختیار کرد - صبر بڑی نعمت ہے صابر کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے۔مخالف علماء وقت کا مقابلہ سے گریز اسی بھا بھٹی اور رات دن مناظرات میں تھے جو مولوی ابو سعید محمد حسین بٹالوی شملہ سے لودھیانہ میں آگئے اور آتے ہی انہوں نے هَلْ مِنْ تُبَارَز بحث کے لئے حضرت اقدس علیہ السلام سے ٹھہرائی اور شہر لودھیانہ میں دھوم مچادی کہ میرا شکار بھاگا ہوا اب لودھیا نہ میں ہاتھ آیا ہے اب مرزا کو چاہئے کہ مجھ سے مباحثہ کرے۔ادھر حضرت اقدس علیہ السلام بھی مباحثہ کے لئے تیار ہو گئے اور آپ چاہتے تھے کہ کوئی مباحثہ کرے لودھیانہ کے تین مولوی ڈی ٹکٹ شعب جو لودھیانہ کے لوگوں میں یسوع صاحب کی تثلیث کی طرح مانے جاتے تھے ایک مولوی عبد اللہ اور دوم مولوی عبد العزیز اور سوم مولوی محمد مقابل پر حضرت اقدس کے نہیں آئے حالانکہ ایک دو اشتہار حضرت اقدس علیہ السلام نے ان ذی ثلث شعب مسطور اور دوسرے مولویوں کے نام چھپوا کر شائع کر چکے تھے اور مولوی شاہ دین جو مولوی رشید احمد گنگوہی کا مرید اور نیز قوت بازد تھا وہ بھی مباحثہ کے لئے نہ کھڑا ہوا حالانکہ اس نے بھی بہت شور وغل مچایا تھا کہ میں بحث کروں گا جب بحث کا اشتہار حضرت اقدس علیہ السلام نے دیا تو یہ دبک گئے اور بحث کا نام تک نہ لیا۔اور جو لوگوں۔کہا اور میں نے بھی کہلا کر بھیجا تو یہ جواب دیا کہ مرزا صاحب بے علم میں میری شان سے دور ہے