تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 119 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 119

تذكرة المهدي 119 صاحب کی علمیت کی خوب جانچ پڑتال کرلیں گے اور معلوم کرلیں گے کہ کہاں تک مولوی صاحب کی مبلغ علم کا کمال ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ نے ایک رسالہ کا نام اس وقت مجھے یاد نہیں رہا انشاء اللہ تعالٰی آگے اس رسالہ کی عبارت اور نام لکھوں گا آپ بڑے وثوق سے لکھتے ہیں کہ جب کلیر میں نماز جمعہ ادا ہو چکی اور امام نمبر پر خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا تو صابر صاحب نے ان نمازیوں کے لئے بددعا کی اور کہا اے مسجد گر جاوہ مسجد گر گئی اور سب عالم و فاضل جو پانسو تھے۔اور سب نمازی امیر و غریب دب کر مرگئے اب سوچنے کا مقام ہے کہ علاوہ مسائل شرعیہ کے تاریخ دانی میں بھی ماشاء اللہ آپ کی وسعت معلومات بہت بڑھی ہوئی ہے ایک ادنیٰ سے ادنی مسلمان بھی جانتا ہے کہ خطبہ جمعہ نماز جمعہ سے پہلے پڑھا جاتا ہے اور مسلمانوں کے کسی ایک فرقہ میں بھی ایسا نہیں پایا جاتا کہ جمعہ کی نماز کے بعد خطبہ جمعہ پڑھا جائے اور پھر حضرت علاء الدین علی احمد صابر کا بد دعا کرنا صرف اتنی بات کے لئے کہ مجھے اول صف میں کیوں نہ بٹھایا تمام علماء کا اور عام و خاص اور امیر و غریب کا خون کرنا اور مسجد کو گرانا اول تو کلیر کی تاریخ کی کسی کتاب میں ذکر نہیں اور نہ کسی بزرگ کا اتنا لمبا چوڑا نام پایا جاتا ہے مولوی مشتاق احمد صاحب تو اس قابل ہیں کہ سکھ صاحبان کی صحبت میں رہیں تو وہاں ان کے علم کی خوب قدر ہو کیونکہ سکھ بھی فن تاریخ میں خوب ماہر ہیں یہ ایسی بات ہے کہ سکھ صاحب لکھتے ہیں کہ جب بابا نانک صاحب مکہ گئے تو ملکہ ان کے پیروں کی طرف پھر گیا اور مکہ میں امام اعظم اور ابراہیم خلیل اللہ کی بحث ہوئی ان کو یہ خبر نہیں کہ بابا نانک صاحب کب ہوئے حالانکہ بابا نانک رحمتہ اللہ علیہ کو چار - سال کے قریب زمانہ ہوا اور حضرت امام اعظم کو بارہ سو برس اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو چار ہزار برس کا زمانہ ہونے کو آیا۔مجھے ایک عجیب بات اسی مضمون کے متعلق یاد آگئی الور میں ایک صاحب مشہور ہیں اور نام بھی ان کا سید امیر حسن ہے میں نے برسبیل تذکرہ ان سے