تذکرۃ المہدی — Page 102
تذكرة المهدي 102 فرمایا مسجد بهشت ہے اور نزول رحمت کا مقام ہے اللہ تعالی نے اس کو بخش دیا پھر حضرت اقدس علیہ السلام میر کو تشریف لے گئے اور اس مرحوم کے متعلق پر افسوس ذکر فرمایا اور اس کے متعلقین کو جو ساتھ تھے بہت کچھ تسلی و تشفی فرمائی تیسرے روز شیخ فیض اللہ وغیرہ چلنے لگے اور اجازت طلب کی فرمایا ذرا ٹھرو آج ہم بھی اسی طرف سیر کو چلیں گے جس طرف سے کہ تم کو جاتا ہے پس حضرت امام علیہ السلام اور آپ کے بہت سے خدام بٹالہ کے راستہ سے سیر کو چلے اور دو میل سے زیادہ تک تشریف لے گئے یہ حضرت اقدس کا خلق عظیم تھا اور یہ اپنے خدام کے ساتھ برتاؤ تھا کہ ہر ایک کے ساتھ محبت رکھتے تھے ادنیٰ و اعلی پر نظر نہیں تھی اور ہر ایک شخص جو دامن مبارک سے وابستہ تھا اور حضور سے ذرہ سا بھی تعلق اور سچا خلوص رکھتا تھا حضور اقدس اس کو ایسا عزیز رکھتے تھے کہ ہر ایک شخص یہی سمجھتا تھا کہ جو محبت و شفقت میرے ساتھ ہے دو سرے سے نہیں ایک ادنیٰ سے ادنیٰ بھی آپ کو راستہ میں ٹھرا لیتا تو آپ وہاں سے نہیں ہتے تھے صَلَّى اللهُ عَلَيْكَ وَ عَلَى مُحَمَّدٍ یہ ہے آپ کی دعا اور صحبت معیار کا اثر۔اور آپ پر سچا ایمان لانے کا ثبوت۔حضرت مولانا مولوی عبد الکریم مرحوم سیالکوٹی نے ایکبار مجھے فرمایا کہ پیر صاحب جو ہماری جماعت احمدیہ کا فرد گزر جاتا ہے اس کے گزرنے اور فوت ہونے سے ہمیں رنج بھی ہوتا ہے اور خوشی بھی ہوتی ہے خوشی تو یوں ہوتی ہے کہ وہ ابتلاؤں سے بچ گیا اور خاتمہ بالخیر ہو گیا اور اپنا ایمان ثابت اس جہان سے لے گیا اور رنج کا باعث یہ ہے کہ ہمارا ایک بھائی ہم سے جدا ہو گیا۔رو سرا دلچسپ مکالمہ اب میں پھر اصل مطلب کی طرف آتا ہوں نواب علی محمد خان صاحب مرحوم کی کوٹھی پر حضرت اقدس علیہ السلام سے اجازت لے کر آیا تو آتے ہی لوگوں کا میرے پاس مجمع ہو گیا جس میں نواب زادے اور بعض سید اور پیرزادے اور مشائخ اور کچھ