تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 101 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 101

تذكرة المهدي 101 حالت بیان کی تھی اچھا ٹھرو ہم بھی چلتے ہیں حسب معمول ہاتھ میں عصا لے کر اکیلے میرے ساتھ ہو لئے اور یوسف علی کو دیکھا کوئی دس منٹ تک سامنے کھڑے ہو کر دیکھتے رہے اتنے میں ڈاکٹر رشید الدین صاحب اور مولوی قطب الدین صاحب اور مفتی فضل الرحمٰن صاحب بھی آگئے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ کیا تشخیص کی سب نے اپنی اپنی رائے ظاہر کی لیکن پوری اس مرض کی تشخیص نہ ہوئی حضرت اقدس مکان کو تشریف لے گئے اور فرما گئے کہ پایه شو یا کر ذ سب کچھ کیا مگر حالت متغیر ہوتی گئی اور خرخره بولنے لگا حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب بھی تشریف لائے اور کرسی پر بالمقابل بیٹھ کر دو اڑھائی گھنٹہ تک یہ حالت نازک دیکھتے رہے اور مجھ سے فرمایا کہ دیکھو یہ ایسی نازک اور با عبرت حالت ہے کہ ایسی حالت میں بادشاہ یا بڑے سے بڑا متکبر انسان یا کوئی پر زور طاقتور پہلوان اور بہادر ہو وہ بھی بے بس اور لاچار ہو جاتا ہے کسی کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ایسی حالت میں خدا یار ہے اس حالت کو دیکھ کر عظیم ال بادشاہ بھی کانپ اٹھتا ہے غرض صبح سے لیکر عصر کے وقت تک یہی حالت رہی۔عصر کے وقت مرحوم فوت ہو گیا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ وَإِنَّا بِفِرَاقِ لمَحْزُونُونَ الشان مغرب سے پہلے پہلے کفنا کے جنازہ تیار کیا گیا بعد مغرب حضرت اقدس علیہ السلام نے نماز جنازہ پڑھائی کئی سو نماز میں تھے یہ نماز جنازہ بھی پر کیفیت تھی وہ سوزد گر از تھا کہ اللہ اکبر بیان سے باہر ہے حضرت اقدس علیه السلام نهایت درد سے بھری ہوئی آواز سے اللہ اکبر کہتے تھے اتنی دیر نماز پڑھائی کہ عشاء کی نماز کا وقت قریب آگیا بعد نماز اس مرحوم کو دفن کیا گیا۔ای رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک عالی مسجد میں ایک مکان پر تکلف بنا ہوا ہے مرحوم اس مکان پر بڑی شان وشوکت سے لباس فاخرہ پہنے ہوئے بیٹھا ہے صبح کو یہ رویا حضرت اقدس سے بیان کی۔