تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 99 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 99

تذكرة المهدي 99 اون اور پھر بار بار آنے کی توفیق رفیق بخشی اور پھر ایسی سخت بیماری کی حالت میں بھی اس کے قدموں میں لا ڈالا اور پھر میں مر چکا تھا اور اس کی دعا سے زندہ ہوا۔اب میری تمنا اور آرزو یہ ہے شیخ یوسف علی مرحوم کی وفات کہ اللہ تعالی جل شانہ مجھ پر ایسا کہ۔فضل فرمائے کہ مجھ کو اپنا کر لے۔اور اپنی اطاعت اور فرمانبرداری میں رکھے اور اس مامور و مرسل سے زیادہ محبت بڑھا دے اور پھر دونوں ہاتھ اٹھا کر جناب باری میں دعا کی کہ اے میرے اللہ میں تیری درگاہ میں التجا کرتا ہوں کہ میری باقی زندگی کو معصیت سے پاک رکھ اور مجھے اپنے اور اپنے ما مورد موعود علیہ السلام کی نافرمانی سے محفوظ رکھ اور جو میری بقیہ زندگی اے علام الغیوب تیرے علم اور تیری نظر میں اچھی نہ ہو یا میں نافرمانی کی طرف جھکوں یا اور کسی قسم کا شعبہ حیات برائی کا ہو تو الٹی مجھے زندگی پیاری نہیں مجھے معصیت اور نافرمانی اور گناہ کی زندگی کی تمنا نہیں ہے یہی ذکر ہوتے ہوتے مرحوم کو ذرا غفلت ہوئی یہ دعا چونکہ آخری دعا تھی بارگاہ الہی میں قبول ہو گئی اور اسی حالت بین النوم و این قفلی میں چونک اٹھا اور کہا کہ میں نے اس وقت دیکھا کہ ایک دیوار ریت میرے سامنے ہے اور اچانک خود بخود بیٹھ گئی اس نظارہ کے دیکھنے اور سننے سے میرا دل تو پکڑا گیا کہ اللہ تعالٰی عالم الغیب اور دانا پینا ہے۔مرحوم کی زندگی چونکہ اللہ کی نظر اور علم میں بہتر نہیں ہے اور اب یہ پاک کیا گیا ہے یہ دعا قبول ہو چکی۔اب یوسف کی زندگی کا خاتمہ ہے ایک صاحب نے فرمایا کہ یہ دیوار مرض ہے وہ گر گئی گویا مرض جاتا رہا اور تم خدا کے فضل سے تندرست ہو گئے میں نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی مگر مرحوم سمجھ گیا کہ میری دعاء قبول ہو چکی ہے خداتعالی نے چاہا کہ اب اس بندہ کو پاک وصاف اپنے حضور بلا دے اور اپنے اور ہمارے پیارے مسیح موعود علیہ السلام کے دروازہ سے گناہوں میں مبتلا ہونے سے بچا کر پاک زندگی بخشے گا۔°