تذکرۃ المہدی — Page 100
تذكرة المهدي 100 سب نے ہر طرح کی تسلی دی ایک صاحب نے کہا اچھا جی ہم تو اب جاتے ہیں رات بہت گئی۔ان خیالات کو چھوڑو۔اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو وہ بہتر جانے والا ہے ہم سب چلائے اور صبح کی نماز با جماعت حضرت اقدس علیہ السلام کے ساتھ پڑھی بعد نماز حضرت اقدس نے حسب معمول مسجد میں تشریف رکھی یہ حضرت اقدس کا اکثر معمول تھا کہ بعد نماز صبح گھنٹہ دو گھنٹہ تک تشریف رکھا کرتے تھے اور ہر ایک قسم کی باتیں کیا کرتے تھے اور حاضرین کو تعلیم و تلقین فرمایا کرتے تھے۔اس عاجز سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ یوسف علی صاحب کیسے ہیں۔میں نے تمام ماجرا جو رات کو گزرا تھا سنایا اور مرحوم کا دعا کرنا اور دعا کے بعد ایک خواب یا کشف کا دیکھنا عرض کیا حضرت اقدس علیہ السلام کا ایسی دعا کو سن کر مسکراتا اور خواب کے دیکھنے سے آپ کا متحیر رہ جانا چہرہ مبارک سے ظاہر ہوتا تھا فرمایا خدا تعالٰی خیر کرے اور وہی ہر ایک حال سے خوب واقف ہے کچھ دیر کے بعد حضرت اقدس اندر مکان میں تشریف لے گئے اور حاضرین بھی چل دیئے اور میں اپنے گھر چلا گیا اس نیت سے کہ گھر جا کر پھر واپس یوسف علی مرحوم کے پاس جاؤں گا میں گھر جا کر کھڑا ہی ہوا تھا جو شیخ فیض اللہ خالدی ہمشیرہ زادہ مرحوم نے مجھ کو آواز دی کہ جلدی چلو ماموں یوسف علی صاحب کا حال دیکھو میں ان کے ساتھ آیا اور یوسف علی کی حالت غیر دیکھی کہ آنکھیں بے طور کھلی ہیں اور کچھ ہوش نہیں حضرت خلیفتہ اصبح مولانا نورالدین صاحب دام ظلہ کو اطلاع دینا آپ تشریف لائے اور نبض اور شکل دیکھ کر تشریف لے گئے اور چہرہ اور بشرہ سے گویا فرما گئے کہ آخری نتیجہ اب موت ہے اور دوائی بھیجی دوامنہ میں ڈالی تو ادھر ادھر باچھوں میں سے نکل گئی میں نے بھی جان لیا کہ رات کی دعا چونکہ قبول ہو چکی ہے اب زندگی کا خاتمہ ہے۔اس کے بعد میں حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت مبارک میں حاضر ہوا اور اس وقت کی حالت عرض کی آپ نے فرمایا کہ نماز کے وقت تو تم نے اچھی