تذکرۃ المہدی — Page 254
تذكرة الهدى 254 ہیبت حق است صاحب دلق نیست جب نماز ہو چکی پھر مولوی نذیر حسین کو مولویوں نے محاصرہ میں لے کر دالان میں جو دروازہ شمالی کی جانب تھا جہاں پہلے بٹھایا تھا جا بٹھایا مولوی محمد حسین بٹالوی تو استاد کے پاس حفاظت میں رہا لیکن مولوی عبد المجید وغیرہ کئی مولوی آگئے اور افسر پولیس سے باتیں کرنے لگے ادھر سے غلام قادر نے خوب سوال وجواب کئے اور یہاں تک بولے کہ جہاں تک بولنے کا حق تھا۔مولوی عبد المجید نے افسر پولیس سے کہا کہ یہ شخص مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور ہم تم کو ناحق پر جانتا ہے اور حضرت مسیح بن مریم کو جو ہم تم دونوں زندہ آسمان پر یقین کرتے ہیں یہ مردوں میں اور وفات شدوں میں جانتا ہے۔یہ کہتا ہے کہ مسیح کی حیات و وفات میں مولوی نذیر حسین گفتگو کریں اور ہم کہتے ہیں کہ خاص ان کے دعوے مسیح موعود ہونے میں بحث کریں غلام قادر فصیح صاحب نے من جملہ اور باتوں کے افسر پولیس سے یہ کہا دیکھئے حضور جب تک عمدہ خالی نہ ہو تب تک کوئی اس کا ہرگز مستحق نہیں ہوتا۔جب پہلے مسیح کی وفات و حیات پر گفتگو ہولے تب آپ کے مسیح موعود ہونے میں گفتگو ہو۔ابھی تو یہ لوگ مسیح کو زندہ سمجھتے ہیں۔اگر حیات مسیح ثابت ہو گئی تو آپ کے دعوئی مسیح موعود میں کلام کرنا عبث ہے۔یہ دعویٰ خود باطل اور رو ہو جاوے گا اور جو مسیح کی وفات ثابت ہو گئی تو پھر آپ کے مسیح موعود میں بحث کرنا ضروری ہے کہ وہ آنے والا مسیح یہی ہے یا کوئی اور اس امت میں سے۔افسر پولیس نے کہا کہ بے شک یہ بات صحیح ہے تم لوگ کیوں اس میں گفتگو اور بحث نہیں کر لیتے۔وہ افسر تو اس بات پر جم گیا پھر قسم کے بارہ میں گفتگو ہوئی اس سے بھی ان لوگوں نے انکار کیا اور کہا مولوی صاحب بڑھے ہیں ضعیف ہیں عمر رسیدہ ہیں ہم نہ قسم کھاویں اور نہ کھانے پر مولوی صاحب کو آمادہ کریں پھر محمد یوسف صاحب آنریری مجسٹریٹ نے کہا کہ آپ حضرت اپنا عقیدہ لکھ دیں لوگوں کو گمان ہے کہ آپ کا عقیدہ خلاف اسلام ہے۔