تذکرۃ المہدی — Page 255
مه اول تذكرة المهدي 255 لکھ چکے وہ آپ کا لکھا ہوا میں سب کو سنادوں گا چنانچہ حضرت اقدس علیہ السلام نے لکھ دیا جو چھپا ہے۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ میں مسلمان ہوں اور آنحضرت الله ایمان رکھتا ہوں اور مجھے کسی اسلامی عقیدہ میں انکار نہیں لیکن مسیح علیہ السلام کی وفات پر یقین اور ایمان رکھتا ہوں جب حضرت اقدس علیہ السلام یہ تو محمد یوسف صاحب نے چاہا کہ اس کو سنادیں مگر مولویوں نے جن کی نیت بد اور فساد کی تھی عبدالمجید وغیرہ نے سنانے نہ دیا اور لوگ زیادہ اشتعال میں آگئے اور لوگوں کی حالت غصہ اور مولویوں کے بہکانے سے دگرگوں ہو گئی اور غصہ سے لال پیلے ہو گئے افسر پولیس نے دیکھا کہ اب فساد ہوا چاہتا ہے اپنے ماتحت افسر سے انگریزی میں کہا کہ لوگوں کو منتشر کرد - لوگوں میں سخت اشتعال ہے تیور بدلے ہوئے ہیں پس افسر پولیس صاحب بہادر اور محمد یوسف صاحب نے پکار کر کہدیا کہ کوئی مباحثہ نہیں ہو گا سب صاحب چلے جاویں۔حافظ محمد اکبر مرحوم ہمارے چاروں طرف حفاظت کے لئے پھرتے تھے پس سب لوگ تتر بتر منتشر ہو گئے اور مولوی نذیر حسین سب سے پہلے مع شاگردوں اور مولویوں کے چلائیے کیونکہ وہ دروازہ کے قریب دالان میں بیٹھے تھے۔انہوں نے اس بات کو غنیمت جانا جان بچی لاکھوں پائے اور پھر حضرت اقدس علیہ السلام تشریف لے چلے اور تمام سپاہی نوجوان ہمارے ساتھ ساتھ حلقہ کئے ہوئے اور افسر پولیس حضرت اقدس علیہ السلام کے ہمراہ تھے جب ہم دروازہ شمالی پر آئے تو سمجھیاں تلاش کیں کہ وہ کہاں ہیں۔یعنی ان سے آنے جانے کا دو طرفہ کرایہ کیا گیا تھا اور کرایہ دے بھی دیا تھا لیکن لوگوں نے بگھی والوں کو خدا جانے کہاں چھپا دیا تھا۔یا چلا دیا تھا یہ بھی ایک طریق ایزا کا نکالا اور سوائے ان بگھیوں کے کوئی یکہ اور بگھی تانگہ بھی نظر نہ پڑا۔ان لوگوں نے اپنی کوشش سے تمام سواریاں مسجد کے قریب بھی نہ آنے دیں۔پندرہ سولہ یا زیادہ منٹ ہم دروازہ پر سواری کے انتظار میں کھڑے رہے اور یکدم لوگوں نے بلوہ کا ارادہ کیا۔افسر پولیس ہو شیار تھا اس