تذکرۃ المہدی

by Other Authors

Page 206 of 317

تذکرۃ المہدی — Page 206

تذكرة المهدى 206 کچھ علم غیب کا دعویٰ کر بیٹھتے ہیں لیکن وہ لوگ کیسے ہوتے ہیں اور انکا کیا کام ہوتا ہے بخلاف مامورین و مرسلین اپنا ادبار اور دوسروں کا وقار اپنی ہزیمت دو سروں کی نصرت اپنا افلاس و نکبت اور دوسروں کی عزت و حرمت آپ ایک ایک پیسہ کے واسطے دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلاتے اور زائچہ نکاتے اور پانسہ پھینکتے ہیں دوسروں کو عزت کی روپیہ کی دولت وغیرہ کی بشارتیں دیتے ہیں لیکن آپ ذلت و خواری و افلاس میں رہتے ہیں دوسروں کے دروں پر جاتے ہیں ان کو ان سے کیا نسبت بڑے جاہل اور کو دن اور احمق ہیں وہ لوگ جو پیشگوئیوں کو رمالوں اور نجومیوں کے زائچہ سے ملاتے ہیں اور نسبت دیتے ہیں یہ لوگ کبھی عزت نہیں پاتے ہمیشہ ذلت وخواری کے گڑھے میں پڑے رہتے ہیں خدا تعالیٰ سے انکا کوئی تعلق نہیں ہوتا یہ لوگ ذرای ابتلا میں گھبرا جاتے ہیں جان دیدیتے ہیں اور اول تو انہیں ایمان نہیں ہوتا اور جو ذرہ برابر ایمان ہو وہ بھی کھو بیٹھتے ہیں نہ انہیں تقویٰ نہ طہارت نہ خشیت صرف اپنی امانی و خواہشوں کے پیرو ہوتے ہیں بات بات میں جھوٹ قدم قدم پر لغزش اور خدا کے فرستادے ابتلاؤں میں قدم آگے بڑہاتے ہیں کیسے ہی ہولناک نظارے پیش آدیں کسی قسم کے پہاڑ سر پر کریں یہ پیسے جاویں رگڑے جاویں مگر نتیجہ میں کامیاب انجام میں بہرہ مند برہ در اور بار در ہوتے ہیں گھر میں بیٹھے ہیں تو بادشاہ ہیں خدا سے تعلق خدا سے ہم کلام خدا سے راز و نیاز دنیا و مافیہا سے بے تعلق دریائے رحمت الہی کی بارش برستی ہے گھر سے باہر جاویں تو دریائے رحمت الہی ساتھ ہے ان کی آنکھ میں برکت ان کی نظر میں سب کچھ ان کے قدموں میں برکت ان کے ہاتھوں میں برکت ان کی ہر ایک چیز میں رحمت و برکت ان کے ساتھیوں میں وَ لَهُمْ أَزْ وَلا تُمطَهَّرَةٌ برکت و رحمت پاکیزگی خود پاک دوسروں کو پاک بنانے والے اور خود نور کے پہلے منور اور ساتھ ہی منور غرضیکہ ان لوگوں کے علاوہ اور بھی لوگ تھے جنہوں نے دعویٰ مجددیت کیا تھا اور وہ ناکام و نا مراد دنیا سے اٹھ گئے اور حضرت