تذکرۃ المہدی — Page 205
تذكرة المهدى 205 ر اول ترے منہ کی ہی تم میرے پیارے احمد تری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے تجھ سا بہتر نظر آیا نہ کوئی عالم میں لا جرم درپہ ترے سر کو جھکایا ہم نے ہم ہوئے خیر اہم تجھ سے ہی اے خیر رسل تیرے بڑہنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے کا فرد محدود جال ہمیں کہتے ہیں نام کیا کیا غم ملت میں رکھایا ہم نے ہر میدان میں فتح ہر موقع پر منصور ہر ایک مقام پر مظفر وہ کون تھا وہ وہی تھا۔جس کا نام نامی و اسم گرامی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی تھا علیہ الصلوۃ والسلام اک خمسه جس نے دیکھے نین متوالے ترے مست و بے خود ہو نہ وہ تو کیا کرے نظر جس پر پڑے کہتا پھرے من ندیدم چون تو ہرگز دلیرے کر کتنے عاشق کے غار تکرے وہ متجلی ہے تمہاری اے جناب دونوں عالم جس نے کرڈالے خراب آدمی ہوں کس طرح لاؤں میں تاب زمین پنہاں بماند آفتاب گر برائے ما بیداد از منظرے وہ بھی دن ہوگا کبھی عالی ہم میرے گھر تک آپ کے آئیں قدم میں پکاروں شوق یه دمیدم من سرے دارم که در پایت تو کہ ور خوبی نداری ہم سرے در حقیقت مامورین و مرسلین کی من جملہ اور شناختوں کے یہ بھی ایک اعلیٰ درجہ کی شناخت ہے کہ وہ خدا کے فضل سے دنیا میں آکر ایک عالم کو حیران کر دیتے ہیں اور اپنی فتح اور دوسروں کی شکست اپنا وقار دوسروں کا ادبار اپنی نصرت دوسروں کی ہزیمت کا موجب ہوتے ہیں ورنہ یوں تو رمالی جفری بھی کچھ نہ